سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 191 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 191

191 ہے کہ اس انجمن کا کوئی ممبر کسی جائداد یا مال کو اپنے ذاتی افرانس میں خرچ نہیں کر سکتا۔اور نہ ہی خود انجمن سوائے اعرض سلسلہ کے کسی طرح پر خرچ کر سکتی ہے ا سکے جناب مولوی صاحب کا یہ جواب حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کو حیرت میں ڈالنے والا تھا۔کیونکہ اس میں خلیفہ کی حیثیت کو اس قدر گرا کر پیش کیا گیا تھا کہ جیسے سوائے بیعت لینے کے اس کا کوئی اور کام ہی نہیں۔بهر حال مولوی صاحب موصوف کا جواب پڑھ کر حضرت خلیفہ المسیح الاول راضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان سوالات کو جواب کے لئے چالیں ایسے آدمیوں کے پاس بھی بھیجا جائے جو جماعت میں نمائندہ حیثیت کے مالک ہوں۔اور اُن کی رائے سے آپ کو اطلاع دی جائے۔نیز یہ نمائندہ سر جنوری نشاہ کے دن بغرض مشورہ جمع ہوں تھے یہ سوالات جب دوسرے لوگوں کے پاس پہنچے تو ہر ایک نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق جواب لکھا۔ممبران انجمن میں سے خواجہ کمال الدین صاحب، ڈاکٹر مرزا الیعقوب بیگ صاحب شیخ رحمت الله صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کا جواب مولوی محمد علی صاحب کے جواب کے مطابق تھا۔انہوں نے لکھا :- حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وصیت کی رُو ہے اُن کی جانشین انجمن ہے۔حضرت صاحب نے کسی فرد واحد کو اپنا جانشین نہیں بنایا۔یہ اور بات ہے کہ اس انجمن نے بالا تفاق آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے آپ بالاتفاق کو اپنا مطالع بنالیا۔تو اس کا اپنا ذاتی فعل ہے۔وہ وصیت کے ماتحت ایسا کرنے پر مجبور نہ تھی نہ تھ علاوہ ازیں خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنے مکان پر لاہور کے احمدیوں کا ایک جلسہ بلوایا ' جس میں تقریر کی کہ :- سلسلہ کی تباہی کا خطرہ ہے۔اصل جانشین حضرت مسیح موعود ع السلام کی انجمن ہی ہے۔اور اگر یہ بات نہ رہی تو جماعت خطرہ میں پڑ جائے گی۔کے حقیقیت اختلاف حصہ اول ص ۳۹ تا اسم که حقیقت اختلاف صدام سه تاریخ احمدیت جلد ۴ ص ۲۰۲