سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 174 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 174

تہذیب نسواں لاہور میں سید ممتاز علی صاحب نے لکھا :- مرزا صاحب مرحوم نهایت مقدس اور برگزیدہ بزرگ تھے اور نیکی کی ایسی قوت رکھتے تھے جو سخت سے سخت دلوں کو تسخیر کر لیتی تھی۔وہ نہایت ** باخبر عالم بلند ہمت مصلح اور پاک زندگی کا نمونہ تھے۔ہم انہیں مذہبا مسیح موعود تو نہیں مانتے تھے لیکن اُن کی ہدایت در مہنمائی مردہ روحوں کے لئے واقعی مسیحائی تخفی" سے منشی سراج الدین صاحب ( والد ماجد مولانا ظفر علی خاں صاحب) ایڈیٹر اخبار زمیندار نے لکھا: " آپ بناوٹ اور افترا سے بری تھے۔مسیح موعود یا کرشن کا اوتار ہونے کے دعا دی جو آپ نے کتنے ، اُن کو ہم ایسا ہی خیال کرتے ہیں جیسا کہ منصور کا دعوئی انا الحق تھا۔۔گو ہمیں ذاتی طور پر مرزا صاحب کے دعادی یا الہامات کے قاتل اور معتقد ہونے کی عزت حاصل نہ ہوئی۔مگر ہم اُن کو ایک پکا مسلمان سمجھتے تھے یہ ہے کر زن گزٹ دہلی کے ایڈیٹر مرزا حیرت دہلوی صاحب نے لکھا : مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جو اُس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں، وہ واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں۔اُس نے مناظرہ کا بالکل رنگ ہی بدل دیا اور ایک جدید لرسحر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کر دی۔بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ محقق ہونے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا۔۔۔۔اگرچہ مرحوم پنجابی تھا مگر اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ بلندی سند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں۔۔۔اس کا پرزور لٹریچر اپنی شان میں بالکل نرالا ہے اور واقعی اس کی بعض عبارت میں پڑھنے سے ایک وجد کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے۔۔۔اس نے ملاکت کی پیشگوئیوں، مخالفتوں اور نکتہ چینوں کی آگ میں سے ہو کر اپنا رستہ صاف ے مواد تشخید الازبان جلد سو عنبر ، اسلام کے بجوار بعد یہ قادیان ۲۵ جون نشده ص ۱۳