سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 175 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 175

140 کیا اور ترقی کے انتہائی عروج تک پہنچ گیا ہ لے آریہ تیتر کا نے لکھا : عام طور پر جو اسلام دوسرے مسلمانوں میں پایا جاتا ہے، اس کی نسبت آپ کے خیالات اسلام کے متعلق زیادہ وسیع اور زیادہ قابل برداشت تھے۔مرزا صاحب کے تعلقات آریہ سماج سے کبھی بھی دوستانہ نہیں ہوئے اور جب ہم آریہ سماج کی گذشتہ تاریخ کو یاد کرتے ہیں تو ان کا وجود ہمارے سینوں میں بڑا جوش پیدا کرتا ہے " سے بحوالہ اگریم اندر" لاہور نے لکھا :- اگر ہم غلطی نہیں کرتے تو مرزا غلام احمد صاحب ایک صفت میں حضرت محمد (صلعم) صاحب سے بہت مشابہت رکھتے تھے اور وہ صفت ان کا استقلال تھا۔خواہ وہ کسی مقصود کو لے کر تھا۔اور ہم خوش ہیں کہ وہ آخری دم تک اس پر ڈٹے رہے اور ہزاروں مخالفتوں کے باوجود ذرا بھی لغزش نہیں کھائی "" بر مجھ پر جارک نے لکھا :- " ہم یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ وہ کیا بلحاظ لیاقت اور کیا بلحاظ اخلاق اور شرافت کے ایک بڑے پایہ کے انسان تھے مجھے پاؤ نیز " الہ آباد نے لکھا :- "اگر پچھلے زمانہ کے اسرائیلی نبیوں میں سے کوئی نبی عالم بالا سے واپس آکر دنیا میں اس وقت تبلیغ کرے تو بیسویں صدی کے حالات میں اس سے زیادہ غیر موزوں نہ ہو گا جیسے کہ مرزا غلام احمد قادیانی معلوم ہوتے تھے۔۔۔مرزا غلام احمد صاحب کو اپنے متعلق کبھی کوئی شک نہیں ہوا۔اور وہ کامل صداقت اور خلوص سے اس بات کا یقین رکھتے تھے کہ اُن کو خارق عادت طاقت بخشی گئی ہے۔۔۔انہوں نے بشپ ویلڈن (بشپ سیفرائے چاہیئے ناقل) کو چیلنج دیا کہ نشانوں میں اُن کا مقابلہ کریں۔۔۔اور اس مقابلہ کا یہ نتیجہ قرار دیا کہ تا فیصلہ ہو کہ سلسلہ احمدیه که اساس تشخید الاذہان نشده ص۳۳۲ سے تشحید الاذہان نشده ۳۸۲ بحوالي بحوالي