سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 150
۱۵۰ تو ہم نے بجلی سے بچنا تھا نہ یہ کہ ہماری وجہ سے وہ بجلی سے محفوظ رہتے میں سمجھتا ہوں میری وہ حرکت ایک مجنون کی حرکت سے کم نہیں تھی۔مگر مجھے ہمث خوشی ہوا کرتی ہے کہ اس واقعہ نے مجھ پر بھی اس محبت کو ظاہر کر دیا جو مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تھی۔بسا اوقات انسان خود بھی نہیں جانتا کہ مجھے دوسرے سے کتنی محبت ہے جب اس قسم کا کوئی واقعہ ہو تو اسے بھی اپنی محبت کی وسعت اور اس کی گہرائی کا اندازہ ہو جاتا ہے تو جس وقت محبت کا انتہائی جوش اٹھتا ہے عقل اس وقت کام نہیں کرتی محبت پرے پھینک دیتی ہے عقل کو اور محبت پرے پھینک دیتی ہے فکر کو اور وہ آپ سامنے آجاتی ہے۔لے اس واقعہ اور اس سے متعلق آپ کے تاثرات کو پڑھ کر اس بارہ میں کسی شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ آپ کو اپنے عظیم باپ کی صداقت پر کتنا گہرا اور پختہ ایمان تھا۔اور اس کے نتیجہ میں ایسی گری محبت آپ کی ذات سے اور آپ کی ایسی عظمت آپ کے دل پر قائم تھی کہ اس کی مثال مشکل ہی سے ملے گی۔گو محبت بھی بچوں کو اپنے باپ سے ہوتی ہے اور بعض والدین کی عظمت کا احساس بھی اُن کے بعض بچوں کے دل میں ہوتا ہے، لیکن بیک وقت ایسی شدید محبت اور تقدیس اور عظمت کے ایسے قومی احساس کا امتزاج یقیناً انسانی تجربات میں آئے دن کا مشاہدہ نہیں ہے۔اس گھرے ایمان اور محبت کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ آپ اسی راہ پر دلی وابستگی اور کامل خلوص کے ساتھ چل پڑے جو غلبہ اسلام کے جلد تر ظہور کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود اختیار فرمائی تھی اور اپنی تمام طاقتین بچپن ہی سے اس راہ میں وقف کر دیں۔دنیا وی علم کے مقابل پر دینی علم کے حصول میں امتیازی رغبت اسی یقین کامل کا ایک نتیجہ تھا حالانکہ جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذاتی توجہ کا تعلق تھا۔آپ اپنی شبانہ روز شدید مصروفیات کے باعث اپنے کسی بھی بچے کی تعلیم کی طرف ذاتی توجہ نہیں دے سکتے تھے۔دوسرا اگرا اثر اس ایمان کا یہ ظاہر ہوا کہ بچپن ہی سے آپ کو عبادت الہی کا ذوق و شوق پیدا ہوا اور کم سنی ہی میں آپ نیم شبی عبادتوں کے عادی ہو گئے۔متعدد روایات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نماز پنج وقتہ کے علاوہ تہجد کی نماز بھی بالالتزام ادا کیا کرتے تھے اور نماز کی ادائیگی محض رسمی اور ظاہری نہ تھی بلکہ بڑے خشوع و خضوع اور سوز و گداز کی حامل ہوا کرتی تھی له الفضل ۲۵۰ جنوری شد