سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 151 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 151

101 ایک بچے یا نوجوان کا نمازوں میں گریہ وزاری کرنا اور سجدوں میں دیر تک پڑے رہنا یقیناً بڑوں کے لئے باعث تعجب ہوتا ہے۔خصوصاً اس وقت جبکہ ایسے بچے کو کوئی ظاہری صدمہ نہ پہنچا ہو اور فکر کی کوئی دوسری وجہ بھی نظر نہ آئے یہ تعجب اور بھی بڑھ جاتا ہے اور دل میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر اس بچے پر کیا بیتی ہے جو راتوں کو چھپ چھپ کر اُٹھتا اور بلک بلک کر اپنے رب کے حضور روتے ہوئے اپنے معصوم آنسو ہوا سے سجدہ گاہ کو تر کر دیتا ہے ! می تعجب شیخ غلام احمد صاحب واعظہ رضی اللہ عنہ کے دل میں بھی پیدا ہوا جو ایک موسلم تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر اسلام میں داخل ہوئے تھے اور اخلاص اور ایمان میں ایسی ترقی کی کہ نہایت عابد و زاہد اور صاحب کشف و الہام بزرگوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ : " ایک دفعہ میں نے یہ ارادہ کیا کہ آج کی رات مسجد مبارک میں گزاروں گا اور تنہائی میں اپنے مولا سے جو چاہوں گا مانگوں گا۔مگر جب میں مسجد میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ کوئی شخص سجدے میں پڑا ہوا ہے اور الحاج سے دُعا کر رہا ہے۔اس کے اس الحاج کی وجہ سے میں نماز بھی نہ پڑھ سکا اور اس شخص کی دعا کا اثر مجھ پر بھی طاری ہوگیا۔اور میں بھی دُعا میں محو ہو گیا ' اور میں نے دعا کی کہ یا الہی یہ شخص تیرے حضور ہے جو کچھ بھی مانگ رہا ہے وہ اس کو دے دے اور میں کھڑا کھڑا تھک گیا کہ یہ شخص سر اٹھائے تو معلوم کروں کہ کون ہے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ مجھ سے پہلے وہ کتنی دیر سے آتے ہوئے تھے مگر جب آپ نے سر اُٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت میاں محمود احمد صاحب ہیں میں نے السلام علیکم کہا اور مصافحہ کیا اور پوچھا میاں ! آج اللہ تعالیٰ سے کیا کچھ لے لیا ؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں نے تو نہی مانگا ہے کہ انہی ! مجھے میری آنکھوں سے اسلام کو زندہ کر کے دکھا اور یہ کہ کہ آپ اندر تشریف لے گئے نے اسلام کی فتح کا دن دیکھنے کی یہ بے قرار تمنا جو اس نو عمری میں آپ کے دل میں پیدا ہوتی تو عمری ہی میں پھل بھی لانے لگی۔چنانچہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے معصوم دل سے اُٹھنے ) له الفضل ۶ار فروری 14 YA