سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 316
بشدت یہ محسوس فرمایا کہ چونکہ مدرسہ کے قیام سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی اولین خواہش یہ تھی کہ اہلنے پایہ کے علمائے ربانی پیدا ہوں اور اس وجہ سے دینی علوم کی تدریس کے لئے ایک الگ شاخ تعلیم الاسلام سکول میں قائم کی گئی تھی، لہذا اس غرض کو با حسن پورا کرنے کے لئے ایک باقاعدہ علیحدہ درس گاہ کا قیام زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔اس غرض سے آپ نے ایک سب کمیٹی مقرر فرمائی جو حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نواب محمد علی خان صاحب مولوی محمد علی صاحب اور مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب پر مشتمل تھی۔اس سب کمیٹی کے سپرد اس نئے دینی مدرسہ کے لئے قواعد وضوابط اور لائحہ عمل تجویز کرنے کے علاوہ جملہ اخراجات کے لئے رویے کا انتظام کرنا بھی تھا۔حضرت صاحبزادہ صاحب اور بعض دوسرے احباب نے حضور کی اس تجویز کو پورے زور اور بڑی وضاحت کے ساتھ جماعت کے سامنے پیش کیا اور لکھا کہ یہ مدرسہ دنیا میں اشاعت اسلام کا ایک بھاری ذریعہ ہوگا اور اس کے چلانے کے لئے موزوں عمارت اور بہترین لائبریری کا ہونا ضروری ہے۔لے ذرا زمانہ کی ستم ظریفی ملاحظہ فرمایئے کہ وہی بزرگان جو کل تک اس نوجوان کو انگریزیت کا طعنہ دے کر تعلیم الاسلام سکول کو بند کر دینے کے مشورے دے رہے تھے اس واقعہ کے چند سال بعد ہی نیرنگ زمانہ سے ایسے بدلے کہ اب اس نوجوان کی محض اس بنا پر مخالفت کرنے لگے کہ یہ ایک خالص دینی مدرسہ کے قیام کے لئے کوشاں ہے۔چنانچہ ۱۵ر نومبر شاہ کو صدر انجمن احمدیہ کا ایک اجلاس لاہور میں جناب شیخ رحمت اللہ صاحب کے مکان پر منعقدہ ہوا۔اس اجلاس میں حضرت صاحبزادہ صاحب کو جو انجمن کے ممبر بلکہ میر مجلس تھے مدعو نہیں کیا گیا۔بہر حال صدر انجمن نے اپنے اس اجلاس میں بلا کسی خاص وجہ کے اپنے سابقہ فیصلہ کے بالکل بر عکس یہ ریڈ یوشن پاس کیا کہ اس مجلس کی رائے میں عربی مدرسہ کے لئے بغیر وظیفہ کے طالب علموں کا ملنا مشکل معلوم ہوتا ہے اور اس طرح پر مقصد دینی مدرسہ کا حاصل نہیں ہو سکتا، بہتر معلوم ہوتا ہے کہ احمدی طلبا کو اعلیٰ درجہ کی مروجہ تعلیم وظائف دے کر دلائی جائے یا ان کو خاص طور پر ڈاکٹری کے لئے تیار کیا جاوے۔۔۔وغیرہ وغیرہ حسب قرار داد به معامله ۲۶ دسمبر تہ بوقت شب انجمن ہائے احمدیہ کی کانفرنس کے بدر مادیان ۱۸ رجون نشد، تاریخ احمدیت جلد ۴ ص ۲۳