سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 315 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 315

۳۱۵ دوستوں نے آپ کو انگریزیت کا دلدادہ ہونے کا طعنہ بھی دیا۔لیکن آپ اپنی رائے کی انگ اصابت پر مصر رہے۔چونکہ حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ کی رائے بھی آپ ہی کے موافق تھی لہذا حضرت مسیح موعود علیه السلام نے ان دونوں کی رائے کو ترجیح دی اور بعض تبدیلیوں کے ساتھ مدرسہ تعلیم الاسلام کو قائم رکھنے کا فیصلہ فرمایا۔لے انہی دنوں مدرسہ احمدیہ کی بنیاد بھی پڑی۔اس کی تقریب یوں پیدا ہوئی کہ شاہ میں سلسلہ کے دو زبر دست عالم حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوئی اور حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی وفات پاگئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اُن کی وفات کا دوہرا صدمہ پہنچا۔کچھ تو اس لئے کہ یہ دونوں اپنے تقوی ، علم و فضل اور اسلام کے لئے ہمہ تن جان نثاری میں بہت بلند مقام رکھتے تھے اور کچھ اس لئے کہ اتنے بلند پایہ علماء کی وفات سے ایک ایسا علمی خلا پیدا ہوا جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔چنانچہ اس پہلو سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ جماعت میں سے اچھے اچھے لوگ مرتے جاتے ہیں مگر افسوس جو مرتے ہیں اُن کا جانشین ہم کو کوئی نظر نہیں آتا۔مدرسہ تعلیم الاسلام کے متعلق فرمایا مجھے مدرسہ کی طرف دیکھ کر بھی رنج ہی پہنچتا ہے کہ جو کچھ ہم چاہتے تھے وہ بات اس سے حاصل نہیں ہوتی۔اگر یہاں سے بھی طالب علم نکل کر دنیا کے طالب بننے تھے تو ہمیں اس کے قائم کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ہم تو چاہتے ہیں کہ دین کے خادم پیدا ہوں۔چنانچہ تعلیم دین کی اس کمی کے پیش نظر آپ نے ارادہ ظاہر فرمایا کہ جماعت میں قادر الکلام اور خدمت دین کرنے والے علما پیدا کرنے کا کوئی مستقل انتظام ہونا چاہیتے اور مدرسہ تعلیم الاسلام میں ایسی اصلاح ہونی چا۔یہاں سے واعظ اور علما پیدا ہوں۔حضور نے اس کے لئے احباب سے مشورہ کیا اور آخر طے پایا کہ فی الحال مدرسہ تعلیم الاسلام کی نگرانی میں ہی دینیات کی ایک شاخ کھول دی جائے۔چنانچہ جنوری شاہ میں یہ شاخ کھل گئی اور اس طرح اس کلاس کے اجرا سے پہلی دفعہ مدرسہ احمدیہ کی بنیاد پڑی۔حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت کے آغاز ہی میں له الفضل یکم متى شاره که مکتوبات احمدیہ جلد نمبر۲ صفه ، تاریخ احمدیت جلد ۲ مه ۴۰۷ ، رسالہ تعلیم الاسلام جند اون