سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 317
F16 اجلاس میں پیش کیا گیا۔کانفرنس کے اس اجلاس کی اطلاع بھی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو نہیں دی گئی۔خواجہ کمال الدین صاحب، مولوی محمد علی صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اسید محمد حسین شاہ صاحب نے اجلاس سے خطاب کیا اور انجمن کے ۵ار نومبر کے فیصلہ کی پُر جوش رنگ میں وکالت کی۔اور یہ تجویز پیش کی کہ تعلیمی وظائف بڑھا دیتے جائیں تا احمدی نوجوان زیادہ سے زیادہ تعداد میں کالجوں میں جائیں اور پاس ہونے کے بعد ان میں سے جو دین کی خدمت کے لئے زندگی وقف کریں، انہیں ایک آدھ سال میں قرآن پڑھا کر مبلغ بنا دیا جائے۔لے جناب خواجہ کمال الدین صاحب کی تقریر خاص طور پر پُر جوش تھی۔انہوں نے اپنی تقریر میں کہا : ہماری جماعت بڑی عقلمند ہے۔وہ کسی چیز کا ضائع ہونا گوارا نہیں کر سکتی۔چونکہ انگریزی دان مبلغ چاہیں اس لئے مدرسہ دینیہ پر اس قدر خرچ کرنے کی ضرورت نہیں۔اس مدرسہ کے ذریعہ جو مبلغ تیار ہوں گے دُنیا اُن کے متعلق یہی کہے گی کہ وہ روپیہ کی خاطر تبلیغ کر رہے ہیں۔لیکن اگر ہم اپنے نو جوانوں کو کالج میں تعلیم دلوائیں، کوئی ڈاکٹر بن جائے کوئی وکیل بن جاتے، کوئی انجنیر بن جاتے، کوئی سائنس کی اعلیٰ ڈگری حاصل کرے تو لوگوں پر اس کا بڑا اثر ہوگا۔اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسے اسلام کے جانثار خدام ہیں جو تنخواہ لئے بغیر تبلیغ اسلام کر رہے ہیں پس دینی تعلیم کا مدرسہ بند کر دیا جائے اور نوجوانوں کو کالجوں میں تعلیم دلوائی جائے۔خواجہ صاحب کی اس پر خوش تقریر سے سامعین نے کافی اثر قبول کیا یہاں تک کہ بعید نہ تھا کہ اگر اس وقت رائے لی جاتی تو اکثر حاضرین مکرم خواجہ صاحب سے پوری طرح اتفاق کر جاتے۔جس کا لازمی تیجہ یہ نکلتا کہ علیحدہ دینی مدرسہ کا قیام تو در کنار اسکول میں حضرت مسیح موعود عليه السلام کی جاری کردہ دیتی تدریس کی شاخ بھی بند کر دی جاتی لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا۔عین اس وقت جب کہ خواجہ صاحب کی فصاحت و بلاغت اپنے عروج پر تھی اور آپ کی تقریر اپنے اثر کے منتہا تک پہنچ چکی تھی ، حضرت صاحبزادہ صاحب کسی سے صورت حال کا علم پا کر مجلس میں داخل ہوتے۔جب حاضرین مجلس کا یہ رنگ دیکھا اور یہ محسوس کیا کہ ذہن پوری طرح خواجہ صاحب کے طلسم خطابت کے اسیر ہوتے جاتے الفضل ۲۱ نومبر ۱۹۳۵