سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 226 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 226

کے شائع کیا۔اس میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ اگر کسی شخص کو کچھ دریافت کرتا ہو تو وہ ظہر اور عصر کے مابین دریافت کر سکتے ہیں چنانچہ ظہر اور عصر کے درمیان مدرسہ جامع العلوم کے طلباً جمع ہو کر آتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس نشان پر کہ وہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی قبر میں دفن ہوگا " گفتگو کرتے رہے۔۔۔صاحبزادہ صاحب کی طبیعت بہت ناساز تھی اور ہم سب اور وہ خود بھی مطمئن نہ تھے کہ تقریر کر سکیں گے۔بعد مغرب لوگوں کا ہجوم ہوا اور کوئی بارہ سو کے قریب شرفاً کا مجمع ہو گیا۔سب کے بیٹھنے کے لئے فرش ہی تجویز کیا گیا تھا۔کرسیوں اور بنچوں کا انتظام ہماری طاقت سے باہر تھا اور نہ اس قسم کے تکلفات میں پڑنا ہم نے پسند کیا۔۔۔حضرت صاحبزادہ صاحب اُٹھے ان کی غرض تو اس وقت اتنی ہی تھی کہ وہ اپنی علالت کا گذر کردیں گے۔مگر کھڑے ہونے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کی تائید اور نصرت کی اور ایک جدید اور اچھوتا طریق دعوت حق کا آپ کے دل میں ڈالا کہ تمام سننے والے مسحور ہو گئے۔باوجودیکہ ان کے مالوف عقائد کی کمزوریاں نہایت جوش کے ساتھ بیان کی گئیں اور ان کی شناعت کو کھول کھول کر بتایا گیا اگر اس وقت ان کی حالت ایسی تھی کہ وہ نہایت توجہ کے ساتھ اسے سُن رہے تھے۔یہ کہنا کہ اس لیکچر کا اثر کیا ہوا میرے قلم کے اظہار سے باہر ہے۔دیکھنے والے جانتے ہیں۔دو گھنٹے ایک تقریر ہوئی اور تقریر کے ختم ہونے کے بعد لوگوں کا ایک اژدھام صاحبزادہ صاحب کی طرف جھکا ، وہ نثار ہوتے اور ہاتھ چومتے تھے اور متعدد درخواستیں ہو رہی تھیں کہ ابھی اس پر اور بیان کیا جاوے اور کچھ روز قیام ہو۔مگر صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہی ڈالا ہے کہ آب میں یہاں سے روانہ ہو جاتی " لئے آپ کے رشحات قلم کے چند نمونے آپ نے تشحید الاذھان کے ادارتی نوٹ میں قمری نشان " کے عنوان سے ایک مقالہ سپرد قلم کیا۔اس میں ۲۸ دسمبر تشنہ میں آنے والے زلزلہ کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود 1915 له الحكم قادیان ۴۷ در متی ه ص ۱۰۹