سیکھوانی برادران — Page 9
15 14 ہی سخت بخار ہو گیا۔چند روز کے بعد آپ نے 63 سال کی عمر میں 15،14/اگست 1922 چندہ جات اور مالی قربانیوں میں پیش پیش رہتے تھے۔سیکھواں سے قادیان اکثر پیدل آیا کی درمیانی شب بوقت نو بجے اس دنیا کو الوداع کیا اور جہان جاودانی کی طرف رحلت فرما کرتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قرب حاصل کیا کرتے تھے۔حضور کے ساتھ گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔15 اگست کی صبح کو بہشتی مقبرہ میں دفن کئے گئے۔اللہ نماز باجماعت ادا کرنے اور حضور کے ساتھ حضور کے دستر خوان اور لنگر سے کھانا کھانے کے بے شمار مواقع میسر آئے۔آپ سلسلہ کی طرف سے کی جانے والی تحریکات میں تعالیٰ فردوس بریں میں آپ کو جگہ دے۔الفضل قادیان 10 را کتوبر 1925 ص6) استطاعت کے مطابق ضرور حصہ لیا کرتے تھے۔جماعت کی طرف سے جو خدمت بھی آپ کے سپرد کی جاتی اسے بخوشی رضا کارانہ طور پر بجالایا کرتے تھے۔صبح کے وقت با قاعدگی کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے آواز بھی اچھی دی تھی۔آپ اکثر کام کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشعار بلند آواز کے حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھوانی پیدائش: آر : آپ انداز 18601ء۔1861ء میں پیدا ہوئے۔ساتھ پڑھا کرتے تھے۔بیعت: رجسٹر بیعت اولی کے مطابق آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مختلف سفروں میں آپکو حضور کی معیت میں رہنے اور خدمت کی توفیق بھی ملتی رہی بالخصوص حضور علیہ السلام کے خلاف جو جھوٹے مقدمات بیعت 23 /نومبر 1889 ء کو بروز جمعہ کی اور آپ کا نمبر 150 درج ہے۔(رجسٹر بیعت اولی نمبر شمار 150 از خلافت لائبریری ربوہ ) بنائے جاتے تھے ان کی پیروی میں حضور کی ہمرکابی کا شرف ان تینوں بھائیوں کو حاصل ہوتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تین سو تیرہ رفقاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ نمبر 41 (روحانی خزائن پیغام حق اور جماعتی خدمات جلد نمبر 11 صفحہ 325) پر اپنے تین سو تیرہ ( رفقاء) کی جو فہرست دی ہے اس میں نمبر 32 پر ”میاں امام الدین سیکھواں گورداسپور معہ اہل بیت تحریر فرمایا ہے۔عادات و مشاغل ابتدائی ایام میں جبکہ ابھی باقاعدہ دعوت الی اللہ کا صیغہ قائم نہیں ہوا تھا ، آپ آنریری طور پر دعوت الی اللہ کا کام کیا کرتے تھے۔ضلع گورداسپور کی بیشتر جماعتوں کے قیام میں آپ کا بھی دخل تھا۔سیکھواں میں احمدیت کا قیام تینوں بھائیوں کی دعوت الی اللہ سے ہوا۔آپ اپنے بھائیوں میں منجھلے بھائی تھے۔آپ نہایت عبادت گزار ، زاہد اور تہجد گزار حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی تحریر فرماتے ہیں: تھے۔نماز کی پابندی کر نیوالے تھے۔نہایت سادہ مزاج تھے اور ایمان میں پختہ تھے۔اپنے اس گاؤں میں احمدیت کا محرک اور بانی ایک کشمیری خاندان ہے اور وہ تین بھائی بھائیوں میں سے سب سے زیادہ جمعہ میں شامل ہونے کے لئے قادیان آیا کرتے تھے۔میاں جمال الدین ، میاں امام الدین ، خیر الدین ہیں۔حضرت اقدس کے ساتھ ان کو بہت