سیکھوانی برادران — Page 10
17 16 محبت اور اخلاص ہے۔یہ تینوں بھائی ایک دوسرے سے اخلاص میں بڑھے ہوئے ہیں۔جاتے وہاں (دعوت الی اللہ ) کیا کرتے۔پنڈت لیکھرام کے قتل کے بعد جب آپ وہاں بڑے مستعد اور جواں ہمت ہیں۔ان کے ساتھ ہی ان کا ایک پرانا دوست اور دینی بھائی گئے تو وہاں کے آریہ سرداروں نے آپ کو مارنے کے لئے ایک منصوبہ کیا۔وہ واقعہ لمبا منشی عبد العزیز پٹواری سیکھواں ہے۔مشخص اپنے اخلاص کا آپ نمونہ اور نظیر ہے۔“ ہے۔یہاں اس کا آخری حصہ درج کرتا ہوں۔سرداروں نے اپنے مکان پر بلوا کر جہاں مربی و مناظر اور خادم سلسلہ گاؤں کے اور سر کردہ بھی جمع تھے ان پر اس قسم کے الزامات لگانے شروع کئے کہ آپ یہاں حضرت عبدالرحمن صاحب بی اے نے حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھوانی کی فساد کروانا چاہتے ہیں۔مگر ثابت کوئی بات نہ کر سکے۔نیز ان سے یہ تحریر بھی مانگی کہ وہ پھر وفات پر تحریر فرمایا کہ آپ جب سلسلہ عالیہ احمدیہ کے با قاعدہ (مربی) نہ تھے اس وقت کبھی بھا گو والہ نہیں آئیں گے۔آپ نے انکار کر دیا۔سردار نے کہا لکھنا پڑے گا۔والد ضلع گورداسپور میں ایک (مربی) اور مناظر کا کام کرتے رہے۔یہی وجہ ہے کہ ضلع صاحب نے جواب دیا میں کبھی نہ لکھوں گا۔سردار نے ایک شخص سے کہا قلم دوات گورداسپور کی بہت سی جماعتوں کی ترقی اور تربیت میں آپ کا بڑا حصہ ہے خصوصاً ہماری لاؤ۔اتنے میں میرے نانا جان میاں کریم بخش مرحوم کو پتہ لگ گیا اور وہ وہاں پہنچ گئے جماعت ( موضع ہر سیاں) جو حضرت میاں صاحب کے گاؤں سے صرف دو میل کے فاصلہ اوروالد صاحب سے کہا تمہیں یہاں کس نے بلایا ہے ؟ اور ان کا ہاتھ پکڑ کر مجلس سے پر واقعہ ہے، آپ ہی کی ( دعوت الی اللہ ) اور تربیت کا نتیجہ ہے۔“ باہر نکال لائے۔والد صاحب کا خیال تھا کہ جو لوگ وہاں جمع تھے وہ نہیں جانے دیں گے۔حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس فرماتے ہیں ” والد صاحب مرحوم کو میں نے مگر نا نا مرحوم کی جرأت کا ان پر کچھ ایسا رعب پڑا کہ سب خاموش رہ گئے۔دوسرے روز کئی دفعہ غیر احمدیوں کو ( دعوت الی اللہ ) کرتے سنا ہے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب اپنے گاؤں سیکھواں واپس آنے لگے تو گھٹیا نام نمبر دار سے جو آپ کا واقف تھا اور اس کی صداقت ثابت کرنے کیلئے اکثر آپ کے الہامات اور ربانی تائیدات اور پیشگوئیاں مجلس میں حاضر تھا سرداروں کی اس کا روائی کا سبب دریافت کیا۔اس نے کہا کہ آپ سے جن کے وقوع کے وہ خود چشم دید گواہ تھے ، پیش کیا کرتے تھے۔مولوی کرم الدین والے نگو کا سلسلہ بھی میری رائے کی بنا پر شروع ہوا تھا۔ورنہ تجویز یہ تھی کہ آپ کو اندر بلا کر مقدمہ کے حالات اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سفر جہلم نیز ہنری مارٹن کلارک والے خوب مارا جائے اور چوری وغیرہ کا الزام لگا دیا جائے۔اس نے وجہ یہ بتائی کہ سرداروں کا مقدمہ اور دیگر مقدمات جو گورداسپور میں ہوئے اور ان کے متعلق جو پیشگوئیاں پوری خیال ہے کہ پنڈت لیکھرام کا قاتل چھینہ سٹیشن سے اتر کر تمہاری معرفت قادیان گیا اور ہوئیں ان کا اکثر ذکر کیا کرتے تھے کیونکہ اُن سب مقدمات کے وہ چشمد ید گواہ تھے۔یہ انعام واکرام پا کر واپس ہوا۔آپ نے اصل حقیقت بتائی۔مگر اس پر آپ کی بات کا کوئی اثر سب واقعات میں نے ان سے کئی مرتبہ سنے تھے۔گورداسپور کے مقدمات کے سلسلہ میں نہ ہوا۔آپ نے سارا واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سنایا اور حضور نے اپنا الہام آپ کو مرکز سے اگر گورداسپور جلسہ کا انتظام کرنے کی کوئی اطلاع ملی تو آپ خواہ بارش ہوتی وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ پڑھا۔“ یا رات کا وقت ہوتا ہر حال میں وہاں پہنچتے تھے۔میرے نھیال ( بھا گووالہ ) میں جب (روز نامه الفضل قادیان۔8 جولائی 1941ء)