سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 218 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 218

میں خدا نے زید کو بکر کے نطفہ سے پیدا کر کے بکر کا بیٹا بنا دیا تو پھر کسی انسان کی فضول گوئی سے وہ خالد کا بیٹا نہیں بن سکتا اور اگر بکر اور خالد ایک مکان میں اکٹھے بیٹھے ہوں اور اس وقت حکم حاکم پہنچے کہ زید جس کا حقیقت میں بیٹا ہے اس کو پھانسی دیا جائے تو اس وقت خالد فی الفور عذر کر دے گا کہ زید حقیقت میں بکر کا بیٹا ہے میرا اس سے کچھ تعلق نہیں۔یہ ظاہر ہے کہ کسی شخص کے دوباپ تو نہیں ہو سکتے پس اگر متبنی بنانے والا حقیقت میں باپ ہو گیا ہے تو یہ فیصلہ ہونا چاہئے کہ اصلی باپ کس دلیل سے لا دعویٰ کیا گیا ہے۔غرض اس سے زیادہ کوئی بات بھی بیہودہ نہیں کہ خدا کی بنائی ہوئی حقیقتوں کو بدل ڈالنے کا قصد کریں۔دو باتیں ہندوؤں میں قدیم سے چلی آتی ہیں۔بیٹا بنانا اور خدابنانا۔بیٹا بنانے کے لئے تو بڑا عمدہ طریق نیوگ ہے اور خدا اس طرح بناتے ہیں کہ سا لگرام کے پتھر پر معمولی منتر پڑھ کر جس کو ادا ہن کا منتر بھی کہتے ہیں اپنے ہی و ہم سے یہ یقین کر لیتے ہیں کہ اب اس میں پر میشر داخل ہو گیا ہے مگر آریوں نے پر میشر بننے کے طریق سے تو انکار کر دیا ہے مگر بیٹا بنانے کا نسخہ اب تک ان کی نظر میں قابل پسند ہے مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اول آریہ لوگ گود میں بیگانہ بچہ لے کر بیٹا بناتے تھے پھر یہ بات کچھ بناوٹی سی معلوم ہوئی لہذا اس کے قائم مقام نیوگ نکالا کہ تا اپنی عورت کو دوسرے سے ہم بستر کرا کر اس کا نطفہ لے لیں تا نطفہ کے اجزاء جورو کے اجزاء سے مل جائیں اور اس طرح پر کچھ مناسبت پیدا ہو جائے مگر اس قابل شرم زناکاری کے بعد بھی مرد کو اس نطفہ سے کچھ تعلق نہیں کیونکہ وہ غیر کا نطفہ ہے اب چونکہ عقل کسی طرح قبول نہیں کر سکتی کہ متبنی در حقیقت اپنا ہی لڑکا ہو جاتا ہے اس لئے ایسے اعتراض کرنے والے پر واجب ہے کہ اعتراض سے پہلے اس دعوے کو ثابت کرے اور در حقیقت اعتراض تو ہمارا حق ہے کہ کیونکر غیر کا نطفہ جو غیر کے خواص اپنے اندر رکھتا ہے اپنا نطفہ بن سکتا ہے پہلے اس اعتراض کا جواب دیں اور پھر ہم پر اعتراض کریں اور یہ بھی یادر ہے کہ زید جو زینب کا پہلا خاوند تھاوہ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام تھا آپ نے اپنے کرم ذاتی کی وجہ سے اس کو آزاد کر دیا اور بعض دفعہ اس کو بیٹا کہا تا غلامی کا داغ اس پر سے جاتا رہے چونکہ آپ کریم النفس تھے اس لئے زید کو قوم میں عزت دینے کے لئے آپ کی یہ حکمت عملی تھی مگر عرب کے لوگوں میں یہ رسم پڑگئی تھی کہ اگر کسی کا استاد یا آقا یا مالک اس کو بیٹا کر کے پکار تا تو وہ بیٹا ہی سمجھا جاتا یہ رسم نہایت خراب تھی اور نیز ایک بیہودہ و ہم پر اس کی بنا تھی کیونکہ جبکہ تمام انسان بنی نوع ہیں تو اس لحاظ سے جو برابر کے آدمی ہیں وہ بھائیوں کی طرح ہیں اور جو بڑے ہیں وہ باپوں کی مانند ہیں اور چھوٹے بیٹوں کی طرح ہیں۔218