سیرة النبی ﷺ — Page 219
لیکن اس خیال سے اگر مثلاً کوئی ہندو ادب کی راہ سے قوم کے کسی مین آدمی کو باپ کہہ دے یا کسی ہم عمر کو بھائی کہہ دے تو کیا اس سے یہ لازم آئے گا کہ وہ قول ایک سند متصور ہو کر اس ہندو کی لڑکی اس پر حرام ہو جائے گی یا اس کی بہن سے شادی نہیں ہو سکے گی اور یہ خیال کیا جائے گا کہ اتنی بات میں وہ حقیقی ہمشیرہ بن گئیں اور اس کے مال کی وارث ہو گئیں یا یہ ان کے مال کا وارث ہو گیا۔اگر ایسا ہوتا تو ایک شریر آدمی ایک لاولد اور مالدار کو اپنے منہ سے باپ کہہ کر اس کے تمام مال کا وارث بن جاتا کیونکہ اگر صرف منہ سے کہنے کے ساتھ کوئی کسی کا بیٹا بن سکتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ صرف منہ سے کہنے سے باپ نہ بن جائے پس اگر یہی سچ ہے تو مفلسوں ناداروں کے لئے نقب زنی یاڈا کہ مارنے سے بھی یہ عمدہ تر نسخہ ہو جائے گا یعنی ایسے لوگ کسی آدمی کو دیکھ کر جو کئی لاکھ پاکئی کروڑ کی جائید اور کھتا ہو اور لاولد ہو کہہ سکتے ہیں کہ میں نے تجھ کو باپ بنایا پس اگر وہ حقیقت میں باپ ہو گیا ہے تو ایسے مذہب کی رو سے لازم آئے گا کہ اس لاولد کے مرنے کے بعد سارا مال اس شخص کو مل جائے اور اگر وہ باپ نہیں بن سکا تو اقرار کرنا پڑے گا کہ یہ مسئلہ ہی جھوٹا ہے۔اور نیز ایسا ہی ایک شخص کسی کو بیٹا کہ کر ایسا ہی فریب کر سکتا ہے اب چلو کہاں تک چلتے ہو ذرا اپنے دید کی سچائی تو ثابت کرو۔بہتیرے راجے اور مہاراجے اپنی وفادار رعیت کو بیٹے اور بیٹیاں ہی سمجھتے ہیں اور ساتھ ہی ان کی لڑکیاں بھی لے لیتے ہیں اور بہتیرے لوگ محبت یا ادب سے کسی کو باپ اور کسی کو بیٹا کہہ دیتے ہیں مگر ان کے وارث نہیں ہو سکتے۔اب جانا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں پہلے ہی یہ حکم فرما دیا تھا کہ تم پر صرف ان بیٹوں کی عورتیں حرام ہیں جو تمہارے صلبی بیٹے ہیں۔جیسا کہ یہ آیت ہے۔وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ (النساء:24) یعنی تم پر فقط ان بیٹوں کی جو رو میں حرام ہیں جو تمہاری پشت اور تمہارے نطفہ سے ہوں۔پھر جبکہ پہلے سے یہی قانون تعلیم قرآنی میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہو چکا ہے اور یہ زینب کا قصہ ایک مدت بعد اس کے ظہور میں آیا۔تو اب ہر یک سمجھ سکتا ہے کہ قرآن نے یہ فیصلہ اسی قانون کے مطابق کیا جو اس سے پہلے منضبط ہو چکا تھا۔قرآن کھولو اور دیکھو کہ زینب کا قصہ اخیری حصہ قرآن میں ہے مگر یہ قانون کہ متبنی کی جو رو حرام نہیں ہو سکتی یہ پہلے حصہ میں ہی موجود ہے اور اس وقت کا یہ قانون ہے کہ جب زینب کا زید سے ابھی نکاح بھی نہیں ہوا تھا تم آپ ہی قرآن شریف کو کھول کر ان دونوں مقاموں کو دیکھ لو اور ذرہ شرم کو کام میں لاؤ۔اور پھر بعد اس کے سورۃ الاحزاب میں فرمایا۔مَا جَعَلَ اللهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَكُمُ اللَّائِي 219