سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 217 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 217

حضرت زینب اور حضرت زید سے متعلق چند اعتراضات کا جواب: غیر مسلم مورخین کی طرف سے حضرت زینب اور حضرت زید سے متعلق بنیادی طور پر دو اعتراض کئے گئے ہیں (۱) یہ کہ متبھی اگر اپنی جورو کو طلاق دے دیوے تو متبیٰی بنانے والے کا اس عورت سے نکاح جائز نہیں (۲) یہ کہ زینب آنحضرت کے نکاح سے ناراض تھیں تو گویا آنحضرت نے زینب کے معقول عذر پر یہ بہانہ گھڑا کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے۔حضور نے ان دونوں اعتراضات کا جواب بڑی تفصیل کے ساتھ دیا ہے۔جو ذیل میں پیش ہے۔پہلے اعتراض کا جواب: اب ہم ان آریوں کے اس پر افترا اعتراض کی بیخ کنی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو انہوں نے زینب کے نکاح کی نسبت تراشا ہے۔ان مفتری لوگوں نے اعتراض کی بنادو باتیں ٹھہرائی ہیں (۱) یہ کہ متبنی اگر اپنی جورو کو طلاق دے دیوے تو متبنی کرنے والے کو اس عورت سے نکاح جائز نہیں (۲) یہ کہ زینب آنحضرت کے نکاح سے ناراض تھی تو گویا آنحضرت نے زینب کے معقول عذر پر یہ بہانہ گھڑا کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے سو ہم ان دو باتوں کا ذیل میں جواب دیتے ہیں۔امر اول کا جواب۔یہ ہے کہ جو لوگ متبنی کرتے ہیں ان کا یہ دعویٰ سراسر لغو اور باطل ہے کہ وہ حقیقت میں بیٹا ہو جاتا ہے اور بیٹوں کے تمام احکام اس کے متعلق ہوتے ہیں۔ظاہر ہے کہ قانون قدرت اس بیہودہ دعویٰ کو رد کرتا ہے اس لئے کہ جس کا نطفہ ہوتا ہے اسی کے اعضاء میں سے بچہ کے اعضاء حصہ لیتے ہیں اسی کے قومی کے مشابہ اس کے قوی ہوتے ہیں اور اگر وہ انگریزوں کی طرح سفید رنگ رکھتا ہے تو یہ بھی اس سفیدی سے حصہ لیتا ہے اگر وہ حبشی ہے تو اس کو بھی اس سیاہی کا بخرہ ملتا ہے اگر وہ آتشک زدہ ہے تو یہ بیچارہ بھی اسی بلا میں پھنس جاتا ہے۔غرض جس کا حقیقت میں نطفہ ہے اسی کے آثار بچہ میں ظاہر ہوتے ہیں جیسی گیہوں سے گیہوں پیدا ہوتی ہے اور چنے سے چنا نکلتا ہے پس اس صورت میں ایک کے نطفہ کو اس کے غیر کا بیٹا قرار دینا واقعات صحیحہ کے مخالف ہے۔ظاہر ہے کہ صرف منہ کے دعویٰ سے واقعات حقیقیہ بدل نہیں سکتے مثلاً اگر کوئی کہے کہ میں نے سم الفار کے ایک ٹکڑہ کو طباشیر کا ٹکڑہ سمجھ لیا تو وہ اس کے کہنے سے طباشیر نہیں ہو جائے گا اور اگر وہ اس وہم کی بناء پر اسے کھائے گا تو ضرور مرے گا جس حالت 217