سیرة النبی ﷺ — Page 74
مکالمات الہیہ کا ایک تعلق ہوتا ہے آتا ہے اور اس سے غرض اللہ تعالیٰ کی یہ ہوتی ہے کہ تا انکو محبت کی چاشنی اور قبولیت دعا کے ذوق سے حصہ دے اور انکو اعلیٰ مدارج پر پہنچا دے تو یہاں جو ضحی اور کیل کی قسم کھائی، اس میں رسول اللہ صلی الی کام کے مدارج عالیہ اور مراتب محبت کا اظہار ہے اور آگے پیغمبر خدا کا ابراء کیا کہ دیکھو دن اور رات جو بنائے ہیں ان میں کس قدر وقفہ ایک دوسرے میں ڈال دیا ہے ضحی کا وقت بھی دیکھو اور تاریکی کا وقت بھی خیال کرو مَا وَدَعَكَ رَبُّكَ خدا تعالیٰ نے تجھے رُخصت نہیں کر دیا۔اس نے تجھ سے کینہ نہیں کیا بلکہ ہمارا یہ ایک قانون ہے جیسے رات اور دن کو بنایا ہے اسی طرح انبیاء علیهم السلام کے ساتھ بھی ایک قانون ہے کہ بعض وقت وحی کو بند کر دیا جاتا ہے تا کہ ان میں دعاوں کے لئے زیادہ جوش پیدا ہو۔اور ضحی اور کیل کو اسلئے بطور شاہد بیان فرمایا تا آپ کی امید وسیع ہو اور تسلی اور اطمینان پیدا ہو " ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن]۔جلد 1 صفحہ 149-150) وحی الہی کا یہ قاعدہ ہے کہ بعض دنوں میں تو بڑے زور سے بار بار الہام پر الہام ہوتے ہیں اور الہاموں کا ایک سلسلہ بندھ جاتا ہے اور بعض دنوں میں ایسی خاموشی ہوتی ہے کہ معلوم نہیں ہو تا کہ اس قدر خاموشی کیوں ہے اور نادان لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اب خدا تعالیٰ نے ان سے کلام کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔نبی کریم صلی ا م پر بھی ایک زمانہ ایسا ہی آیا تھا کہ لوگوں نے سمجھا کہ اب وحی بند ہو گئی۔چنانچہ کافروں نے ہنسی شروع کی کہ اب خدا نعوذ باللہ ہمارے رسول کریم (صلی ال) سے ناراض ہو گیا ہے اور اب وہ کلام نہیں کرے گا۔لیکن خدا تعالیٰ نے اس کا جواب قرآن شریف میں اس طرح دیا ہے کہ وَالضُّحى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّ عَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى (الضحی :4-2) یعنی قسم ہے دھوپ چڑھنے کے وقت کی۔اور رات کی۔نہ تو تیرے رب نے تجھ کو چھوڑ دیا اور نہ تجھ سے ناراض ہوا۔اس کا یہ مطلب ہے کہ جیسے دن چڑھتا ہے اور اس کے بعد رات خود بخود آجاتی ہے اور پھر اس کے بعد دن کی روشنی نمودار ہوتی ہے اور اس میں خدا تعالیٰ کی خوشی یا ناراضگی کی کوئی بات نہیں۔یعنی دن چڑھنے سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ اس وقت اپنے بندوں پر خوش ہے اور نہ رات پڑنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر ناراض ہے بلکہ اس اختلاف کو دیکھ کر ہر عظمند خوب سمجھ سکتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق ہو رہا ہے۔اور یہ اس کی سنت ہے کہ دن کے بعد 74