سیرة النبی ﷺ — Page 52
أبل المعرفة۔اللهم فصل علیہ وسلم ، وآلہ جس پر اہل معرفت کے سلوک ختم ہوتے ہیں اور نیز خدا المطهرين الطيبين، وأصحابہ الذین ہم شناسی کے آخری مقام کی طرف اشارہ ہے۔پس اے خدا! أسود مواطن النهار و ريبان اللیالی و نجوم اس نبی پر سلام اور درود بھیج اور اس کے آل پر جو مظہر اور الدین، رضی الله عنهم أجمعين طیب ہیں اور اس کے اصحاب پر جو دن کے میدانوں کے شیر اور راتوں کے راہب ہیں اور دین کے ستارے ہیں۔خدا کی خوشنودی ان سب کے شامل حال ہے۔جماعت کو نصیحت: آپ نے فرمایا نجم الهدی، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 16-17) سو اس نے قدیم وعدہ کے موافق اپنے مسیح موعود کو پیدا کیا جو عیسی کا اوتار اور احمدی رنگ میں ہو کر جمالی اخلاق کو ظاہر کرنے والا ہے اور خدا نے تمہیں اس عیسی احمد صفت کے لئے بطور اعضا کے بنایا۔سو اب وقت ہے کہ اپنی اخلاقی قوتوں کا حُسن اور جمال دکھلاؤ۔چاہئے کہ تم میں خدا کی مخلوق کے لئے عام ہمدردی ہو اور کوئی چھل اور دھوکا تمہاری طبیعت میں نہ ہو۔تم اسم احمد کے مظہر ہو۔سو چاہئے کہ دن رات خدا کی حمد و ثنا تمہارا کام ہو اور خادمانہ حالت جو حامد ہونے کے لئے لازم ہے اپنے اندر پیدا کر و اور تم کامل طور پر خدا کی کیونکر حمد کر سکتے ہو جب تک تم اس کو رب العالمین یعنی تمام دنیا کا پالنے والا نہ سمجھو اور تم کیونکر اس اقرار میں بچے ٹھہر سکتے ہو جب تک ایسا ہی اپنے تئیں بھی نہ بناؤ۔کیونکہ اگر تو کسی نیک صفت کے ساتھ کسی کی تعریف کرتا ہے اور آپ اس صفت کے مخالف عقیدہ اور خلق رکھتا ہے تو گویا تو اس شخص سے ٹھٹھا کرتا ہے کہ جو کچھ اپنے لئے پسند نہیں کرتا اس کے لئے روار کھتا ہے۔اور جبکہ تمہارا رب جس نے اپنی کلام کو رب العالمین سے شروع کیا ہے زمین کی تمام خوردنی و آشامیدنی اشیاء اور فضا کی تمام ہوا اور آسمانوں کے ستاروں اور اپنے سورج اور چاند سے تمام نیک و بد کو فائدہ پہنچاتا ہے تو تمہارا فرض ہونا چاہئے کہ یہی خلق تم میں بھی ہو ورنہ تم احمد اور حامد نہیں کہلا سکتے۔کیونکہ احمد تو اس کو کہتے ہیں کہ خدا کی بہت تعریف کرنے والا ہو۔اور جو شخص کسی کی بہت تعریف کرتا ہے وہ اپنے لئے وہی خلق پسند کرتا ہے جو اس میں ہیں اور چاہتا ہے کہ وہ خلق اُس میں ہوں۔پس تم کیونکر بچے احمد یا حامد ٹھہر سکتے ہو جبکہ اس خلق کو اپنے لئے پسند نہیں کرتے۔حقیقت میں احمدی بن جاؤ اور یقیناً سمجھو 52