سیرة النبی ﷺ — Page 53
کہ خدا کی اصلی اخلاقی صفات چارہی ہیں جو سورۃ فاتحہ میں مذکور ہیں۔(۱) رب العالمین سب کا پالنے والا (۲) رحمان۔بغیر عوض کسی خدمت کے خود بخو د رحمت کرنے والا (۳) رحیم۔کسی خدمت پر حق سے زیادہ انعام اکرام کرنے والا اور خدمت قبول کرنے والا اور ضائع نہ کرنے والا۔(۴) اپنے بندوں کی عدالت کرنے والا۔سو احمد وہ ہے جو ان چاروں صفتوں کو ظلی طور پر اپنے اندر جمع کرلے۔یہی وجہ ہے کہ احمد کا نام مظہر جمال ہے اور اس کے مقابل پر محمد کا نام مظہر جلال ہے۔وجہ یہ کہ اسم محمد میں ستر محبوبیت ہے کیونکہ جامع محامد ہے اور کمال درجہ کی خوبصورتی اور جامع المحامد ہونا جلال اور کبریائی کو چاہتا ہے۔لیکن اسم احمد میں ستر عاشقیت ہے۔کیونکہ حامدیت کو انکسار اور عشقی تذلل اور فروتنی لازم ہے۔اسی کا نام جمالی حالت ہے اور یہ حالت فروتنی کو چاہتی ہے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں شانِ محبوبیت بھی تھی جس کا اسم محمد مقتضی ہے۔کیونکہ محمد ہونا یعنی جامع جمیع محامد ہوناشان محبوبیت پیدا کرتا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں شانِ محبیت بھی تھی جس کا اسم احمد مقتضی ہے۔کیونکہ حامد کے لئے محب ہو نا ضروری ہے۔ہر ایک شخص کسی کی سچی اور کامل تعریف تبھی کرتا ہے جبکہ اس کا محب بلکہ عاشق ہو اور عاشق اور محب ہونے کیلئے فروتنی لازم ہے اور یہی جمالی حالت ہے جو حقیقت احمدیہ کو لازم پڑی ہوئی ہے۔محبوبیت جو اسم محمد میں مخفی تھی صحابہ کے ذریعہ سے ظہور میں آئی۔اور جو لوگ ہتک کرنے والے اور گردن کش تھے محبوب الہی ہونے کے جلال نے ان کی سرکوبی کی لیکن اسم احمد میں شانِ محبت تھی یعنی عاشقانہ تذلل اور فروتنی۔یہ شان مسیح موعود کے ذریعہ سے ظہور میں آئی۔سو تم شانِ احمدیت کے ظاہر کرنے والے ہو۔لہذا اپنے ہر ایک بیجا جوش پر موت وارد کرو اور عاشقانہ فروتنی دکھلاؤ۔خدا تمہارے ساتھ ہو“۔آمین (اربعین نمبر 4، روحانی خزائن 17 جلد صفحہ 446 تا 448) اسم احمد میں پیشگوئی: آپ نے ایک اہم بات یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ احمد میں دراصل مسیح موعود و مہدی معہود کی پیشگوئی ہے۔ایک جگہ فرمایا۔کذالک ورث المسیح الموعود اسم أحمد الذى هو مظهر الرحيمية والجمال۔واختار لہ اللہ ہذا الاسم ولمن تبعہ وصار لہ کالآل فالمسیح الموعود مع جماعته مظهر من 53