سیرة النبی ﷺ — Page 51
محبوبیت پیدا کرتا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں شانِ محبیت بھی تھی جس کا اسم احمد مقتضی ہے۔کیونکہ حامد کے لئے محب ہونا ضروری ہے“ اُمت کے لئے وصیت: ار بعین نمبر 4 روحانی خزائن جلد 17، صفحه 447-448) سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اسم محمد اور اسم احمد کے بارے ایک اہم نکتہ یہ بیان فرمایا ہے کہ ان دو مقدس ناموں میں اُمت کے لئے نصیحت و وصیت ہے۔جیسا کہ فرمایا: أحمد ومحمد من فبشرى لنا معشر الإسلام قد بعث لنا نبی پس ہم جو اسلام کا گروہ ہیں ہمیں خوشخبری ہو کہ ہمیں بهذه الصفة۔وبذا الكمال التام، وسُمّی احمدیت اور محمدیت کی صفت والا نبی ملا اور اس کا نام خدا تعالیٰ الله العلام، ليکون کی طرف سے احمد اور محمد ہوا تا کہ اس کے دونوں نام اُمت بذان الاسمان بلاغا للأمة وتذکیرا لہذا کے لئے ایک تبلیغ ہو۔اور اس مقام کے لئے یہ ایک یاد دہانی المقام۔الذى بو مقام الفناء والانقطاع و ہو۔وہ مقام جو فنا اور غیر اللہ سے منقطع ہونے اور معدوم الانعدام، لترغب الأمة في هذه الصفات ہونے کا مقام ہے تاکہ اُمت ان صفتوں میں رغبت کرے اور کا وتتبع اسمي خير الأنام۔وقد نُدب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان دونوں ناموں کی پیروی عليهما إذ قيل حكاية عن الرسول : فا کرے اور پیروی کے لئے قرآن شریف میں بُلایا گیا ہے جبکہ تبعُونِي يُحببكم الله فابتزّت أرواحنا عند رسول کی زبان سے کہا گیا کہ آؤ میری پیروی کرو تا خدا تم وعد بذا الجزاء والإنعام، وقلوبنا ملئت سے پیار کرے۔پس یہ سن کر کہ یہ انعام ملے گا ہماری شوقا وصارت أشكالها ككؤوس المدام، روحیں جنبش میں آئیں اور ہمارے دل شوق سے بھر گئے اور وما أعظم شأن رسول ما خلا اسمہ من ان کی شکلیں یوں ہو گئیں جیسا کہ شراب سے بھرے ہوئے وصية للامة، بل ملاء من تعليم الطریقۃ، کوزے ہوتے ہیں اور اس رسول کی کیا ہی بلندشان ہے جس کا ويهدى إلى طرق المعرفة، وأُشير في نام بھی وصیت سے خالی نہیں۔بلکہ خدا جوئی کے طریقہ کی اسميه إلى منتهى مراحل شبل حضرة اس سے تعلیم ملتی ہے اور معرفت کی راہوں کی طرف وہ العزة، واومى إلى نقطة ختم علیہا سلوک ہدایت کرتا ہے۔اور اس میں اس نقطہ کی طرف اشارہ ہے 51