سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 32 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 32

کے پیٹ میں پڑا۔اور انکے سوا اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں ہمارے بزرگ اور مقدس نبی صلی الی یوم کے علو خاندان اور شرافت قوم اور بزرگ قبیلہ کا ذکر ہے“ تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 281) حضور نے مندرجہ بالا تحریر کی وضاحت میں اسی صفحہ کے حاشیہ میں درج فرمایا کہ م نفس کے لفظ میں ایک قراءت زبر کے ساتھ ہے یعنی حرف فاء کی فتح کے ساتھ اور اسی قراءت کو ہم اس جگہ ذکر کرتے ہیں۔اور دوسری قراءت بھی یعنی حرف فاء کی پیش کے ساتھ بھی اسکے ہم معنی ہے کیونکہ خدا قریش کو مخاطب کرتا ہے کہ تم جو ایک بڑے خاندان میں سے ہو یہ رسول بھی تمہی میں سے ہے یعنی اعلیٰ خاندان ہے“ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اور جگہ فرمایا: تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15، حاشیہ صفحہ 281) عرب کی تاریخ دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ بجز آنحضرت ملی ایام کے سلسلہ آباء واجداد کے جن کو اللہ جلّ شانہ نے اپنے خاص فضل و کرم سے شرک اور دوسری بلاوں سے بچائے رکھا باقی تمام لوگ عیسائیوں کے بد نمونہ کو دیکھ کر اور انکی چال و چلن کی بد تاثیر سے متاثر ہو کر انواع اقسام کے قابل شرم گناہوں اور بد چلنیوں میں مبتلا ہو گئے تھے“ (نور القرآن۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 341 حاشیہ) جیسا کہ آپ نے آنحضور صلی اللہ نیلم کی علام نبی قرآن کریم اور تاریخ عرب کی رو سے بیان فرمائی ہے اور بالخصوص جن آیات کا ذکر فرمایا ہے یعنی (توبه: 128 اور الشعراء: 220،218) ہیں اور دیگر بزرگ مفسرین نے بھی ان آیات کا یہی مضمون بیان کیا ہے مثلا علامہ ابن کثیر لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ (توبه: 128) کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ مومنین پر احسان ظاہر فرماتا ہے کہ ہم نے تمہارے لئے تمہاری ہی طرح کا ایک رسول بھیجا ہے جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے دعا مانگی تھی رَبَّنَا وَابعَث فِيهِم رَسُولًا مِنهم اور ولقد مَنَّ الله على المومنين اور لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ جعفر بن ابی طالب نے نجاشی سے اور مغیر گانے سفیر کسری سے کہا تھا اللہ نے ہم میں ہماری ہی قوم کا ایک رسول بھیجا ہے جسکے نسب سے ہم واقف ہیں جسکی صفات جانتے ہیں جسکے اٹھنے بیٹھنے اور صدق امانت سے ہم واقف ہیں زمانہ جاہلیت سے بھی جسکے 32