سیرة النبی ﷺ — Page 33
خاندان پر کوئی دھبہ نہیں ہے۔(26) اس مضمون کو اسی آیت لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُ مِنْ أَنْفُسِكُمْ“ کے تحت امام فخر الدین رازی نے بھی بیان کیا ہے اور انہوں نے اسکی دوسری قرأت جسکا ذکر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کا بھی ذکر کیا ہے۔چنانچہ امام فخر الدین رازی تحریر کرتے ہیں کہ۔”آن المقصود من ذكر هذه الصّفةُ التنبيه على طهارتِهِ كَانّ قِيلَ هُوَ مِنْ عَشيَرتِكَم تَعرفونه بالصدق والامانة والعفافِ والصيانة۔۔۔و قُرِئَ مِن أَنفُسَكُمْ أَى مِنْ اَشرَفكُم وأفضلكُم وقيل هِيَ قِرائہ رسُولِ اللهِ وَ فاطمہ وَ عائشہ یعنی مقصود آپ مالی نام کی اس صفت کے بیان کا یہ ہے تا آپ میلی یی کم کی پاکیزگی بیان ہو جیسا کہ بیان کیا گیا ہے آپ صلی اللی علم تمہارے ہی قبیلہ میں سے ہیں اور تم انکے صدق و امانت و عفت و صیانت سے خوب واقف ہو۔۔۔اور اس آیت کو مِن أَنفُسَكُم بھی پڑھا گیا ہے۔اور یہ قرائت رسول اللہ صلی علیکم و فاطمہ وعائشہ کی ہے۔(27) محفوظ نسب: کسی بھی خاندان کے نسب کا شرف اس بات کو بھی سمجھا جاتا ہے کہ اس خاندان کا نسب کتنی پشتوں تک معلوم و محفوظ ہے۔جس خاندان کا نسب جتنی دور کی پشتوں تک معلوم و محفوظ ہو وہ اتناہی معزز سمجھا جاتا ہے اور وہ افراد، قوم یا خاندان جس کا نسب بھی محفوظ ہو اور خالص بھی ہو اسکی تمام پشتوں میں بکثرت نیک کردار لوگ موجود ہوں وہ قوم حسب و نسب کے لحاظ سے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔دنیا کی تمام قدیم اقوام میں سے ایک حضرت محمدصلی ال نیم کا خاندان ہی ایسا ہے جس کا نسب ابتدا سے لیکر انتہا تک محفوظ اور خالص ہے اور نیک کردار لوگوں حتی کہ ملہمین سے پر رہا ہے۔تاریخ کی متعدد کتب میں نبی اکرم صلی للی یم کا نسب نامہ درج ہے " محمد علی تعلیم بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک بن عدنان بن اسماعیل بن ابراہیم (28) یہ نسب نامہ جملہ کتب تاریخ میں بغیر کسی اختلاف کے موجود ہے۔اور یہ عرب میں ایسا مشہور و معروف تھا کہ جس میں کوئی شبہ نہ تھا۔نسب نامہ معلوم و محفوظ رہنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ عرب معاشرہ میں نسب نامہ یا درکھنا ایک رواج تھا۔اور جس شخص کا نسب معلوم نہ ہو تا اس کی کوئی عزت نہ ہوتی تھی۔اگر چہ نسب نامہ یاد رکھنے کا رواج تھا لیکن بعض لوگ اس فن میں مہارت کی خاص شہرت بھی رکھتے تھے۔اگر کسی شخص کے نسب کا کوئی معاملہ در پیش آتا تو لوگ ان ماہرین انساب کی طرف رجوع کرتے تھے۔33