سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 31 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 31

اس لئے ہر ایک ابتلاء کے وقت خدا نے اُس کی مدد کی جبکہ وہ ظلم سے آگ میں ڈالا گیا خدا نے آگ کو اُس کے لئے سرد کر دیا۔اور جب ایک بد کردار بادشاہ اُن کی بیوی سے بد ارادہ رکھتا تھا تو خدا نے اُس کے اُن ہاتھوں پر بلا نازل کی جن کے ذریعہ سے وہ اپنے پلید ارادہ کو پورا کرنا چاہتا تھا۔پھر جبکہ ابراہیم نے خدا کے حکم سے اپنے پیارے بیٹے کو جو اسمعیل تھا ایسی پہاڑیوں میں ڈال دیا جن میں نہ پانی نہ دانہ تھا تو خدا نے غیب سے اُس کے لئے پانی اور سامانِ خوراک پیدا کر دیا سید الکونین حضرت محمد علی علوم کا مظہر نسب : (روحانی خزائن جلد 22۔حقیقۃ الوحی صفحہ 52) کتب تاریخ وسیرت کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تمام انبیاء نسب اور حسب کے لحاظ سے مطہر اور معزز تھے۔ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی علیم بھی نسب اور حسب کے لحاظ سے نہایت اعلیٰ تھے بلکہ سب سے اعلیٰ تھے۔آپ صلی اللہ ظلم کی اس امتیازی شان کا حضور نے اپنی تحریرات و فرمودات میں بڑی تفصیل سے ذکر کیا فرمایا: ”کیونکہ جیسا کہ خدا تعالیٰ قادر ہے، حکیم بھی ہے اور اسکی حکمت اور مصلحت چاہتی ہے کہ اپنے نبیوں اور ماموروں کو ایسی اعلیٰ قوم اور خاندان اور ذاتی نیک چال چلن کے ساتھ بھیجے تا کہ کوئی دل انکی اطاعت سے کراہت نہ کرے۔یہی وجہ ہے جو تمام نبی علیهم السلام اعلیٰ قوم اور خاندان میں سے آتے رہے ہیں۔اسی حکمت اور مصلحت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ہمارے سیّد و مولی نبی صل الم کےوجود باجود کی نسبت ان دونوں خوبیوں کا تذکرہ فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ (توبہ: 128) یعنی تمہارے پاس وہ رسول آیا ہے جو خاندان اور قبیلہ اور قوم کے لحاظ سے تمام دنیا سے بڑھ کر ہے۔اور سب سے زیادہ پاک اور بزرگ خاندان رکھتا ہے اور ایک اور جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ (الشعراء: 218-220) یعنی خدا پر توکل کر جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔وہی خدا جو تجھے دیکھتا ہے جب تو دعا اور دعوت کے لئے کھڑا ہوتا ہے وہی خدا جو تجھے اسوقت دیکھتا تھا کہ جب تو تخم کے طور پر راستبازوں کی پشتوں میں چلا آتا تھا۔یہاں تک کہ اپنی بزرگ والدہ آمنہ معصومہ 31