سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 30 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 30

اور وہ یہ کہ جیسا کہ بائیبل میں لکھا ہے کہ براہیم سارہ کی رنجش کے نتیجہ میں اسماعیل اور ہاجرہ کو جنگل بیابان میں چھوڑ آئے (25)، گویا انہوں نے بیگناہوں پر ظلم کیا۔اور یہ ایک عظیم الشان نبی کے شایان شان نہیں ہو سکتا۔لیکن قرآن نے حضرت ابراہیم سے اس اعتراض کو دور فرمایا ہے۔اس معاملہ کو حضرت مصلح موعودؓ نے درج ذیل الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔اس آیت (ابراہیم : 38) میں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم کا یہ فعل نہایت نیک نیت کی بنا پر تھا۔ضمناً اس میں بائیبل کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ بائبل میں ہے کہ حضرت سارہ ناراض ہو گئیں تھیں اس لئے انکو خوش کرنے کے لئے حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل اور انکی والدہ کو جنگل میں چھوڑا تھا یعنی ایک نبی نے اپنی ایک بیوی کی رضا مندی کے لئے بعض بے گناہوں پر ظلم کیا قرآن کریم اس امر کا جو حضرت ابراہیم کے نام پر دھبہ ہے خود حضرت ابراہیم کے منہ سے دفعیہ کرواتا ہے اور انکی مذکورہ بالا دعا نقل کر کے بتاتا ہے کہ یہ بیان بائبل کا غلط اور بے بنیاد ہے۔اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ اے رب تو تو جانتا ہے کہ میری نیت انکو جنگل میں چھوڑنے سے کیا ہے میں ایسا کسی دنیوی غرض کی وجہ سے نہیں کر رہا بلکہ محض تیری خوشنودی کے حصول کے لئے اپنی بیوی بچوں کو اس جنگل میں چھوڑے جارہا ہوں“ ( تفسیر کبیر جلد 3 از حضرت مصلح موعود صفحه 487، تفسیر سورۃ ابراہیم آیت 38) آپ نے ان واقعات کو بیان فرما کر امت مسلمہ کو خدا تعالیٰ کے ان عظیم الشان فضلوں کی طرف توجہ دلائی ہے نیز ابتلاؤں میں صبر کے عظیم الشان ثمرات یاد دلائے ہیں اور یہ ثابت فرمایا ہے کہ تمام برکتوں کی کنجی رضاء خداوندی اور ارادہ الہی کی اتباع میں ہے جیسا کہ فرمایا۔ماسوا اس کے جس طرح خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اپنے صفات اخلاقیہ سے دلوں میں اپنی محبت جماوے ایسا ہی اُن کی صفات اخلاقیہ میں اس قدر معجزانہ تاثیر رکھ دیتا ہے کہ دل اُن کی طرف کھنچے جاتے ہیں۔وہ ایک عجیب قوم ہے کہ مرنے کے بعد زندہ ہوتے ہیں اور کھونے کے بعد پاتے ہیں اور اس قدر زور سے صدق اور وفا کی راہوں پر چلتے ہیں کہ اُن کے ساتھ خدا کی ایک الگ عادت ہو جاتی ہے گویا اُن کا خدا ایک الگ خدا ہے جس سے دنیا بے خبر ہے۔اور اُن سے خدا تعالیٰ کے وہ معاملات ہوتے ہیں جو دوسروں سے وہ ہر گز نہیں کرتا جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام چونکہ صادق اور خدا تعالیٰ کا وفادار بندہ تھا 30