سیرة النبی ﷺ — Page 29
إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ - إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ - وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ سَلَامٌ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ۔وَبَارَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَى إِسْحَاقَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنُ وَظَالِمُ لِنَفْسِهِ مُبِينٌ۔(الشفت: 113،102) پس ہم نے اسے ایک بُردبار لڑکے کی بشارت دی۔پس جب وہ اس کے ساتھ دوڑنے پھرنے کی عمر کو پہنچا اس نے کہا اے میرے پیارے بیٹے ! یقیناً میں سوتے میں دیکھا کرتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، پس غور کر تیری کیا رائے ہے ؟ اس نے کہا اے میرے باپ ! وہی کر جو تجھے حکم دیا جاتا ہے۔یقینا اگر اللہ چاہے گا تو مجھے تو صبر کرنے والوں میں سے پائے گا۔پس جب وہ دونوں رضامند ہو گئے اور اس نے اُسے پیشانی کے بل لٹا دیا۔تب ہم نے اسے پکارا کہ اے ابراہیم ایقینا تو اپنی رویا پوری کر چکا ہے۔یقینا اسی طرح ہم نیکی کرنے والوں کو جزا دیا کرتے ہیں۔یقیناً یہ ایک بہت کھلی کھلی آزمائش تھی۔اور ہم نے ایک ذبح عظیم کے بدلے اُسے بچا لیا۔اور ہم نے بعد میں آنے والوں میں اس کا ذکر خیر باقی رکھا۔ابراہیم پر سلام ہو۔یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔اور ہم نے اسے اسحاق کی بطور نبی خوشخبری دی جو صالحین میں سے تھا۔اور اُس پر اور اسحاق پر ہم نے برکت بھیجی اور ان دونوں کی ذریت میں احسان کرنے والے بھی تھے اور اپنے نفس کے حق میں کھلم کھلا ظلم کرنے والے بھی تھے رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ (ابراہیم :38) اے ہمارے رب ! یقیناً میں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو ایک بے آب و گیاہ وادی میں تیرے معزز گھر کے پاس آباد کر دیا ہے۔اے ہمارے رب ! تا کہ وہ نماز قائم کریں۔پس لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں پھلوں میں سے رزق عطا کر تا کہ وہ شکر کریں۔احادیث میں بھی یہ واقعات بیان ہوئے ہیں مثلاً صحیح بخاری کتاب بدء الخلق اور کتاب الانبیاء میں یہ واقعات بڑی تفصیل سے مذکور ہیں۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ بائیبل میں بھی یہ واقعات بیان ہوئے ہیں لیکن کچھ فرق کے ساتھ۔بائیبل میں جب ان واقعات کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات پر کچھ اعتراض پید اہوتے ہیں۔29