سیرة النبی ﷺ — Page 13
سے کم نہ رہ جائے۔اسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ عیسائیوں نے ابن مریم کو ابن اللہ بنا کر کوئی نئی بات نہیں نکالی بلکہ پہلے بے ایمانوں اور مشرکوں کے قدم پر قدم مارا ہے“ ( براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 465 حاشیہ نمبر 11) کفارہ کا عقیدہ بگاڑ کی اہم وجہ : حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اور جس قدر بد چلنی اور بد اعمالی عربوں میں آئی وہ در اصل عربوں کی ذاتی فطرت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک نہایت ناپاک اور بد چلن قوم ان میں آباد ہو گئی جو ایک جھوٹے منصوبہ کفارہ پر بھروسہ کر کے ہر یک گناہ کو شیر مادر کی طرح سمجھتی تھی“ بد چلنی میں یہودی بڑھے ہوئے تھے یا عیسائی؟: ( نور القرآن ا۔روحانی خزائن۔جلد 9۔حاشیہ صفحہ 341) تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات تو معلوم ہوتی ہے کہ یہود اور عیسائی دونوں ہی بد چلنیوں میں مبتلا ہو چکے تھے۔لیکن اگر یہ موازنہ کیا جائے کہ کون اول نمبر پر تھا تو اس بارہ میں آپ نے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ عیسائی بد چلنیوں میں سب سے بڑھے ہوئے تھے فرمایا: ”بظاہر یہ فرق کرنا مشکل ہے کہ کیا اس زمانہ میں فسق و فجور اور ہر ایک قسم کی بد چلنی میں یہود بڑھے ہوئے تھے یا عیسائی نمبر اول پر تھے۔مگر ذرہ غور کرنے کے بعد معلوم ہو گا کہ در حقیقت عیسائی ہی ہر ایک بدکاری اور بد چلنی اور مشرکانہ عادات میں پیش دست تھے “ عیسائیوں کا بدکاری میں اول نمبر ہونے کا سبب: سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: (نور القرآن ا۔روحانی خزائن جلد 9- حاشیہ صفحہ 341-342) قرآن شریف نے جس قدر اپنے نزول کے زمانہ میں ان عیسائیوں وغیرہ کی بدچلنیاں بیان کی ہیں جو اس وقت موجود تھے۔ان تمام قوموں نے خود اپنے منہ سے اقرار کر لیا تھا بلکہ بار بار اقرار کرتے تھے 13