سیرة النبی ﷺ — Page 14
کہ وہ ضرور ان بد چلنیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں اور عرب کی تاریخ دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ آباء واجداد کے جن کو اللہ جل شانہ نے اپنے خاص فضل و کرم سے شرک اور دوسری بلاؤں سے بچائے رکھا باقی تمام لوگ عیسائیوں کے بدنمونہ کو دیکھ کر اور ان کی چال و چلن کی بد تاثیر سے متاثر ہو کر انواع اقسام کے قابل شرم گناہوں اور بد چلنیوں میں مبتلا ہو گئے تھے اور جس قدر بد چلنی اور بد اعمالی عربوں میں آئی وہ در حقیقت عربوں کی ذاتی فطرت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک نہایت ناپاک اور بد چلن قوم ان میں آباد ہو گئی جو ایک جھوٹے منصوبہ کفارہ پر بھروسہ کر کے ہر یک گناہ کو شیر مادر کی طرح سمجھتی تھی اور مخلوق پرستی اور شراب خواری اور ہر ایک قسم کی بدکاری کو بڑے زور کے ساتھ دنیا میں پھیلا رہی تھی اور اول درجہ کی کذاب اور دغا باز اور بد سرشت تھی۔بظاہر یہ فرق کرنا مشکل ہے کہ کیا اس زمانہ میں فسق و فجور اور ہر ایک قسم کی بد چلنی میں یہودی بڑھے ہوئے تھے یا عیسائی نمبر اول پر تھے۔مگر ذرہ غور کرنے کے بعد معلوم ہو گا کہ در حقیقت عیسائی ہی ہر ایک بدکاری اور بد چلنی اور مشرکانہ عادات میں پیش دست تھے۔کیونکہ یہودی لوگ متواتر ذلتوں اور کوفتوں سے کمزور ہو چکے تھے اور وہ شرارتیں جو ایک سفلہ آدمی اپنی طاقت اور دولت اور عروج قومی کو دیکھ کر کر سکتا ہے یا وہ بد چلنیاں جو کثرت دولت اور روپیہ پر موقوف ہیں۔ایسے نالائق کاموں کا یہودیوں کو کم موقعہ ملتا تھا مگر عیسائیوں کا ستارہ ترقی پر تھا اور نئی دولت اور نئی حکومت ہر وقت انگشت دے رہی تھی کہ وہ تمام لوازمات ان میں پائے جائیں جو بدی کے مؤیدات پیدا ہونے سے قدرتی طور پر ہمیشہ پائی جاتی ہیں۔پس یہی سبب ہے کہ اس زمانہ میں عیسائیوں کی بد چلنی اور ہر یک قسم کی بدکاری سب سے زیادہ بڑھی ہوئی تھی اور یہ بات یہاں تک ایک مشہور واقع ہے کہ پادری فنڈل باوجود اپنے سخت تعصب کے اس کو چھپا نہیں سکا اور مجبور ہو کر اس زمانہ کے عیسائیوں کی بد چلنیوں کا میزان الحق میں اس کو اقرار کرنا ہی پڑا۔مگر دوسرے انگریز مؤرخوں نے تو بڑی بسط سے ان کی بد چلنیوں کا مفصل حال لکھا ہے چنانچہ ان میں سے ایک ڈیون پورٹ صاحب کی کتاب ہے جو ترجمہ ہو کر اس ملک میں شائع ہو گئی ہے۔غرض یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ اس زمانہ کے عیسائی اپنی نئی دولت اور حکومت اور کفارہ کی زہر ناک تحریک سے تمام بدچلنیوں میں سب سے زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ہر ایک نے اپنی فطرت اور طبیعت کے موافق جدا جدا بے اعتدالی اور معصیت کی راہیں اختیار کر رکھی تھیں اور ان کی دلیریوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے مذہب کی سچائی سے بالکل نومید ہو چکے تھے اور ایک چھپے ہوئے دہر یہ تھے اور ان 14