سیرة النبی ﷺ — Page 185
کوئی قتل کرے گا یا قتل کے منصوبے کرے گا اور شرارتیں اور ایذارسانی کی سعی کرتا ہے تو ضرور ہے کہ وہ سزا پادے۔قاعدہ کی بات ہے کہ مجرمانہ حرکات پر ہر ایک پکڑا جاتا ہے پس مکہ والے بھی اپنی شرارتوں اور مجرمانہ حرکات کے باعث اس قابل تھے کہ ان کو سخت سزائیں دی جاتیں اور ان کے وجود سے اس ارض مقدس اور اس کے گردو نواح کو صاف کر دیا جاتا مگریہ رحمة للعالمین اورانک لعلیٰ خلق عظیم کا مصداق اپنے واجب القتل دشمنوں کو بھی پوری قوت اور مقدرت کے ہوتے ہوئے کہتا ہے لَا تَثْرِيبَ عَلَيكُم اليوم “ ابوسفیان ایک کم فراست والا آدمی: ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن جلد 2 صفحہ 118 تا 119) تاریخی واقعات کی روشنی میں شخصیات کی طبائع و مزاج اور فراست و سفاحت پر تبصرہ آپ کی تحریرات کا ایک نہایت دلچسپ پہلو ہے جس کا اظہار بعض تحریرات میں ہوا ہے۔جیسے ابوسفیان کے متعلق فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ابو سفیان ایک بڑا ضعیف القلب اور کم فراست والا آدمی تھا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پر فتح پائی تو اسے کہا کہ تجھ پر واویلا۔اس نے جواب میں کہا کہ اب سمجھ آگئی ہے کہ تیرا اخد ا سچا ہے اگر ان بتوں میں کچھ ہو تا تو یہ ہماری اس وقت مدد کرتے۔پھر جب اسے کہا گیا کہ تو میری نبوت پر ایمان لاتا ہے؟ تو اس نے تردد ظاہر کیا اور اس کی سمجھ میں توحید آئی۔نبوت نہ آئی۔بعض مادے ہی ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں فراست کم ہوتی ہے جو توحید کی دلیل تھی وہی نبوت کی دلیل تھی مگر ابو سفیان اس میں تفریق کرتارہا۔اسی طرح سعید لوگوں کے دلوں میں اثر پڑ جائے گا سب ایک طبقہ کے انسان نہیں ہوتے۔کوئی اول جیسے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ۔کوئی اوسط درجہ کے۔کوئی آخری درجہ کے “ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن جلد 2 صفحہ 551) ابو سفیان کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ کتب سیرت میں مذکور ہے اس سے مندرجہ بالا ارشاد کی وضاحت ہو جاتی ہے۔جیسا کہ لکھا ہے کہ جب آنحضور صلی الی یکم نے ابو سفیان کو کہا آلم یانِ لكَ ان تعلَمَ إِنَّهُ لا اله الا اللہ کیا ابھی بھی تم پر وقت نہیں آیا کہ جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ؟ اس نے جواب دیا میں بالکل سمجھ چکا ہوں کہ اللہ 185