سیرة النبی ﷺ — Page 186
کے سوا اگر کوئی معبود ہو تا تو ہماری کچھ مدد تو کرتا۔پھر اس سے پوچھا الم یانِ لَكَ أَنْ تَعلَمَ أَنِّي رسول الله تو اس نے کہا اس میں مجھے ابھی کچھ تردد ہے۔اس کے دو ساتھی حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء اسی وقت مسلمان ہو گئے۔(11) الغرض یہ واقعہ اور اسی طرح بعض اور واقعات اس کی ضعیف قلبی اور کم فراستی پر دلالت کرتے ہیں۔مثلاً غزوہ سویق میں واپسی پر پکڑے جانے کے خوف سے ابو سفیان بھا گا اور اپنے اونٹ پر سے ستو کے تھیلے گر ا گیا تا کہ بوجھ ہلکا ہو اور تیزی سے بھاگ جائے۔(12) اسی طرح غزوہ خندق میں آندھی والی شب سب سے پہلے ابوسفیان گھبر اکر بھاگا تھا جسے دیکھ کر باقی لشکر نے بھی راہ فرار لی۔غزوہ حنین: (13) غزوہ حنین کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریرات میں بیان فرمایا ہے کہ ”جنگ حنین میں حضرت رسول کریم صلی ا یکم اکیلے رہ گئے۔اس میں یہی بھید تھا کہ آنحضرت کی شجاعت ظاہر ہو۔جبکہ حضرت رسول کریم صلی ال ان دس ہزار کے مقابلہ میں اکیلے کھڑے ہو گئے۔کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ایسا نمونہ دکھانے کا کسی نبی کو موقعہ نہیں ملا“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 512) محضرت علم کی مکی زندگی ایک عجیب نمونہ ہے اور ایک پہلو سے ساری زندگی ہی تکالیف میں گزری۔جنگ حنین میں آپ اکیلے ہی تھے۔لڑائی میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنی نسبت رسول اللہ ظاہر کرنا آپ کی کس درجہ کی شوکت، جرآت اور استقامت کو بتاتا ہے“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 517-518) ایک موقع پر تلوار پر تلوار پڑتی تھی اور آپ نبوت کا دعوی کرتے تھے کہ محمد رسول اللہ میں ہوں۔کہتے ہیں حضرت کی پیشانی پر ستر زخم لگے۔مگر زخم خفیف تھے۔یہ خُلق عظیم تھا“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 84) 186