سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 184 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 184

جاتا ہے۔اس وقت جیسے صبر اور برداشت سے آپ نے کام لیا وہ ظاہر بات ہے۔لیکن جب خدا تعالی کے حکم سے آپ نے ہجرت کی اور پھر فتح مکہ کا موقع ملا تو اس وقت ان تکالیف اور مصائب اور سختیوں کا خیال کر کے جو مکہ والوں نے تیرہ سال تک آپ اور آپ کی جماعت پر کی تھیں آپ کو حق پہنچتا تھا کہ قتل عام کر کے مکہ والوں کو تباہ کر دیتے اور اس قتل میں کوئی مخالف بھی آپ پر اعتراض نہیں کر سکتا تھا، کیوں کہ ان تکالیف کے لئے وہ واجب القتل ہو چکے تھے اس لئے اگر آپ میں قوت غضبی ہوتی تو وہ بڑا عجیب موقع انتقام کا تھا کہ وہ سب گرفتار ہو چکے تھے مگر آپ نے کیا کیا؟ آپ نے ان سب کو چھوڑ دیا اور کہا لا تثریب علیکم الیوم۔یہ چھوٹی سی بات نہیں ہے مکہ کی مصائب اور تکالیف کے نظارہ کو دیکھو کہ قوت و طاقت کے ہوتے ہوئے کس طرح اپنے جانستاں دشمنوں کو معاف کیا جاتا ہے یہ ہے نمونہ آپ کے اخلاق فاضلہ کا جس کی نظیر دنیا میں پائی نہیں جاتی۔یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ مکہ والوں نے آپ کی نری تکذیب نہیں کی تھی۔نری تکذیب سے جو محض سادگی کی بناء پر ہوتی ہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالی سزائیں نہیں دیتا ہے لیکن جب مکذب شرافت اور انسانیت کی حدود سے نکل کر بے حیائی اور دریدہ دہنی سے اعتراض کرتا ہے اور اعتراضوں ہی کی حد تک نہیں رہتا بلکہ ہر قسم کی ایذا دہی اور تکلیف رسانی کے منصوبے کرتا ہے اور پھر اس کو حد تک پہنچاتا ہے تو اللہ تعالی کی غیرت جوش میں آتی ہے اور اپنے مامور اور مرسل کے لئے وہ ان ظالموں کو ہلاک کر دیتا ہے، جیسے نوح کی قوم کو ہلاک کیا یا لوط کی قوم کو اس قسم کے عذاب ہمیشہ ان شرارتوں اور مظالم کی وجہ سے آتے ہیں جو خدا کے ماموروں اور ان کی جماعت پر کئے جاتے ہیں؛ ورنہ نری تکذیب کی سزا اس عالم میں نہیں دی جاتی اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے اور اس نے ایک اور عالم عذاب کے لئے رکھا ہے۔عذاب جو آتے ہیں وہ تکذیب کو ایڈا کے درجے تک پہنچانے سے آتے ہیں اور تکذیب کو استہزاء اور ٹھٹھے کے رنگ میں کر دینے سے آتے ہیں اگر نرمی اور شرافت سے یہ کہا جاوے کہ میں نے اس معاملہ کو سمجھا نہیں اس لئے مجھے اس کے ماننے میں تامل ہے تو یہ انکار عذاب کو کھینچ لانے والا نہیں ہے کیونکہ یہ تو صرف سادگی اور کمی علم کی وجہ سے ہے میں سچ کہتا ہوں کہ اگر نوح کی قوم کا اعتراض شریفانہ رنگ میں ہو تا تو اللہ تعالیٰ نہ پکڑ تا ساری قومیں اپنی کرتوتوں کی پاداش میں سزا پاتی ہیں۔خدا تعالیٰ نے تو یہاں تک فرما دیا ہے کہ جو لوگ قرآن سننے کے لئے آتے ہیں۔ان کو امن کی جگہ تک پہنچا دیا جاوے خواہ وہ مخالف اور منکر ہی ہوں اس لئے کہ اسلام میں جبر اور اکراہ نہیں جیسے فرمایا: لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقره: 257) لیکن اگر 184