سیرة النبی ﷺ — Page xix
اور لائف کے نقشہ کو صفائی سے نہ دکھلایا ہو تو یہ شخص نہایت ملول خاطر اور منقبض ہو جاتا ہے۔اور بسا اوقات اپنے دل میں ایسے سوانح نولیس پر اعتراض بھی کرتا ہے اور در حقیقت وہ اس اعتراض کا حق بھی رکھتا ہے کیونکہ اس وقت نہایت اشتیاق کی وجہ سے اس کی مثال ایسی ہوتی ہے کہ جیسے ایک بھو کے کے آگے خوان نعمت رکھا جائے اور معاً ایک لقمہ کے اٹھانے کے ساتھ ہی اس خوان کو اٹھا لیا جائے۔اس لئے ان بزرگوں کا یہ فرض ہے جو سوانح نویسی کے لئے قلم اٹھاویں کہ اپنی کتاب کو مفید عام اور ہر دلعزیز اور مقبولِ آنام بنانے کے لئے نامور انسانوں کے سوانح کو صبر اور فراخ حوصلگی کے ساتھ اس قدر بسط سے لکھیں اور ان کی لائف کو ایسے طور سے مکمل کر کے دکھلاویں کہ اس کا پڑھنا ان کی ملاقات کا قائم مقام ہو جائے۔تا اگر ایسی خوش بیانی سے کسی کا وقت خوش ہو تو اس سوانح نویس کی دنیا اور آخرت کی بہبودی کے لئے دعا بھی کرے۔اور صفحات تاریخ پر نظر ڈالنے والے خوب جانتے ہیں کہ جن بزرگ محققوں نے نیک نیتی اور افادہ عام کے لئے قوم کے ممتاز شخصوں کے تذکرے لکھے ہیں انہوں نے ایسا ہی کیا ہے“ (کتاب البریہ ، روحانی خزائن جلد 13 حاشیہ صفحہ 159-162) آپ نے اپنی تصنیف البلاغ میں دنیا کے علوم کی اہم کتب کی فہرست شائع فرمائی جو حضرت حکیم نورالدین صاحب کے کتب خانہ میں موجود تھیں۔ان کتب سے حضور بوقت ضرورت استفادہ کرتے تھے۔ان میں علم تاریخ کے متعلق کتب کی فہرست بھی درج فرمائی ہے۔جو آپ کے مطالعہ میں رہیں اور وہ یہ ہیں: تاریخ طبری کلان ۱۴ مجلد - تاریخ ابن خلدون کے مجلد۔تاریخ کامل ابن اثیر ۱۲ مجلد۔اخبار الدول قرمانی۔اخبار الاوائل محمد بن شحنہ۔تاریخ ابو نصر عتبی۔نفح الطيب تاریخ علماء اندلس۔مروج الذہب مسعودی۔آثار الا دہار ۳ مجلد۔عجائب الاثار جیر تی۔خلاصۃ الاثر فی اعیان حادی عشر۔فہرست ابن ندیم۔مفاتیح العلوم الآثار الباقیه بیرونی تقویم البلدان عمادالدین۔مراصد الاطلاع۔مسالک الممالک۔الفتح الفتی نزہتہ المشتاق مواہب اللدنیہ۔زرقانی شرح مواہب۔زاد المعاد۔سیرۃ ابن ہشام۔شفا شرح شفا لعلی قاری سیرۃ محمدیہ۔اوجز السیر۔قرة العیون۔سرور المحزون۔مدارج النبوة- معارج النبوة سيرة حلبيه سيرة دحلان ملخص التواریخ۔سیر محمد یہ حیرت۔تنقید الکلام۔بدائع الزهور۔تحفۃ الاحباب۔تاریخ الخلفاء سیوطی۔تاریخ الخلفاء اصابہ فی معرفہ الصحابہ۔xvi