سیرة النبی ﷺ — Page xviii
پھر ایک جگہ آپ نے ان لوگوں کو جو مناظرات مذہبیہ میں قدم رکھیں یا مخالفین کے اعتراضات کا جواب لکھنے کا ارادہ کریں چند ضروری نصائح اور شرائط بیان فرمائیں ان میں سے ایک علم تاریخ سے واقفیت ہے جیسا کہ فرمایا: چھٹی شرط علم تاریخ بھی ہے۔کیونکہ بسا اوقات علم تاریخ سے دینی مباحث کو بہت کچھ مدد ملتی ہے۔مثلاً ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی ایسی پیشگوئیاں ہیں جن کا ذکر بخاری و مسلم وغیرہ کتب حدیث میں آچکا ہے اور پھر وہ ان کتابوں کے شائع ہونے سے صدہا برس بعد وقوع میں آگئی ہیں۔اور اس زمانہ کے تاریخ نویسوں نے اپنی کتابوں میں ان پیشگوئیوں کا پورا ہونا بیان کر دیا ہے۔پس جو شخص اس تاریخی سلسلہ سے بے خبر ہو گا وہ کیونکر ایسی پیشگوئیاں جن کا خدا کی طرف سے ہونا ثابت ہو چکا ہے اپنی کتاب میں بیان کر سکتا ہے ؟“ البلاغ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 373) ایک جگہ حضور نے سوانح نویسی کی اہمیت اور سوانح نویسی کے اصول و آداب کے بارہ میں ان الفاظ میں نصیحت فرمائی۔یہ بات ظاہر ہے کہ جب تک کسی شخص کے سوانح کا پورا نقشہ کھینچ کر نہ دکھلایا جائے تب تک چند سطریں جو اجمالی طور پر ہوں کچھ بھی فائدہ پبلک کو نہیں پہنچا سکتیں اور انکے لکھنے سے کوئی نتیجہ معتد بہ پیدا نہیں ہو تا۔سوانح نویسی سے اصل مطلب تو یہ ہے کہ تا اُس زمانے کے لوگ یا آنے والی نسلیں ان لوگوں کے واقعات زندگی پر غور کر کے کچھ نمونہ ان کے اخلاق یا ہمت یا زہد و تقویٰ یا علم و معرفت یا تائید دین یا همدردی نوع انسان یا کسی اور قسم کی قابل تعریف ترقی کا اپنے لئے حاصل کریں اور کم سے کم یہ کہ قوم کے اولو العزم لوگوں کے حالات معلوم کر کے اس شوکت اور شان کے قائل ہو جائیں جو اسلام کے عمائد میں ہمیشہ سے پائی جاتی رہی ہے تا اس کو حمایت قوم میں مخالفین کے سامنے پیش کر سکیں اور یا یہ کہ ان لوگوں کے مرتبت یا صدق اور کذب کی نسبت کچھ رائے قائم کر سکیں۔اور ظاہر ہے کہ ایسے امور کے لئے کسی قدر مفصل واقعات کے جاننے کی ہر ایک کو ضرورت ہوتی ہے۔اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص ایک نامور انسان کے واقعات پڑھنے کے وقت نہایت شوق سے اس شخص کے سوانح کو پڑھناشروع کرتا ہے اور دل میں جوش رکھتا ہے کہ اس کے کامل حالات پر اطلاع پاکر اس سے کچھ فائدہ اٹھائے۔تب اگر ایسا اتفاق ہو کہ سوانح نویس نے نہایت اجمال پر کفایت کی ہو XV