سیرة النبی ﷺ — Page xx
اسد الغابة- میزان الاعتدال ابن خلکان۔تذکرۃ الحفاظ لسان المیزان خلاصہ اسماء الرجال۔تقریب التہذیب۔خلاصہ تاریخ العرب تاریخ عرب سید یو۔تاریخ مصر و یونان۔تاریخ کلیسیا۔دینی و دنیوی تاریخ مسیحی کلیسیا۔تاریخ یونان۔تاریخ چین۔تاریخ افغانستان۔تاریخ کشمیر۔گلدستہ کشمیر۔تاریخ پنجاب۔تاریخ ہندوستان الفنسٹن۔تاریخ ہند ذکاء اللہ۔ایضا جدید و قالع راجپوتانہ۔تاریخ غوری و خلجی۔عجائب المقدور۔تاریخ مکہ۔رحلہ بیرم صفوۃ الا عتبار۔رحلتہ ابن بطوطہ ۸ مجلد۔رحلة الصديق رحلته الوسی۔رحلتہ احمد فارس۔رحلہ شبلی۔خلفاء الاسلام۔تاریخ نہر زبیدہ۔تاریخ بنگال۔مناقب خدیجہ۔مناقب الصدیق۔مناقب اہل بیت۔مناقب الخواتین۔رحله بر نیر۔تاریخ بیت المقدس اليانع الجنی تذکرہ ابوریحان المشتبه من الرجال۔بدایۃ القدماء۔فتوح بہنا۔جغرافیہ مصر۔فتوح الیمن۔فتوح الشام۔معجم البلدان۔تاریخ الحکماء۔سیرۃ النعمان۔حیات اعظم۔خیرات الحسان۔حسن البیان۔مناقب الشافعی۔قلائد الجواہر - اخبار الاخیار۔تذکرۃ الابرار۔گذشتہ و موجودہ تعلیم۔تاریخ علوی تذکرۃ الاولیاء طبقات کبری۔اتحاف النبلاء التاج المكلل طبقات الادباء طلائع المقدور۔ابجد العلوم- عمدۃ التواریخ۔آئینہ اودھ واقعات شجاع۔نفحات الانس۔سوانح محمد قاسم۔مولوی فضل الرحمن۔بستان المحدثین۔تراجم حنفیہ۔گلاب نامہ۔تاریخ حصار۔تاریخ بہاولپور۔تاریخ سیالکوٹ۔تاریخ نحات۔تاریخ پٹیالہ۔تاریخ روسیہ۔تاریخ لاہور۔روز روشن۔شمع انجمن صبح گلشن۔تذکرۃ الشعراء دولت شاہی۔ترجمان وہابیہ۔تاریخ الحکماء۔یاد گار خواجہ معین الدین چشتی۔تقویم اللسان۔ترک تیمور “ البلاغ۔روحانی خزائن جلد 13۔صفحہ 461،462) یہ کتب آپ کے وسعت مطالعہ کی صرف ایک جھلک ہے ان کے علاوہ بھی سینکڑوں کتب آپ کے مطالعہ میں رہتی تھیں۔آپ کی تحریرات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے تاریخ اسلام اور سیرت النبی صلی ایلیم سے متعلق روایات کا بہت گہر امطالعہ کیا ہے اور پوری تحقیق فرمائی ہے۔جیسا کہ آپ فرماتے ہیں ”ہمارے مذہبی مخالف صرف بے اصل روایات اور بے بنیاد قصوں پر بھروسہ کر کے جو ہماری کتب مسلّمہ اور مقبولہ کی رُو سے ہر گز ثابت نہیں ہیں بلکہ منافقوں کی مفتریات ہیں ہمارا دل دکھاتے ہیں اور ایسی باتوں سے ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتک کرتے ہیں اور گالیوں تک نوبت پہنچاتے xvii