سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page xvii of 304

سیرة النبی ﷺ — Page xvii

بسم اللہ الرحمن الرحیم مقدمة الكتاب سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریرات و فرمودات میں تاریخ اسلام اور سیرت النبی صلی ال نیم کے مختلف واقعات کو کئی پہلؤوں اور نئے زاویوں سے اور مختلف مقاصد کے تحت بیان فرمایا ہے۔چنانچہ ایک مقصد غیر مسلموں کے اعتراضات کے جوابات دینا ہے جو وہ تاریخ اسلام اور سیرت النبی علی ایم کے مختلف واقعات پر کرتے ہیں۔مثلا جہاد بالسیف کی ضرورت، آنحضور صلی ا لم کی میت، صحابه فما عظیم کر دار ، اور کشوف کی حقیقت، ازواج مطہرات سے متعلق اعتراضات۔اسکے علاوہ آپ نے بہت سے علمی، فقہی اور معاشرتی و اخلاقی مسائل سیرت النبی صلی علی کرم اور تاریخ اسلام کی رُو سے حل فرمائے ہیں۔مثلا وحی کی حقیقت، معجزات ، اعلیٰ اخلاق، تعدد ازدواج، منتعہ کی ممانعت، سحر کی حقیقت سخاوت و شجاعت وغیرہ۔پھر بعض واقعات کو بعض واقعات کی تشریح کی غرض سے بیان فرمایا ہے۔اور ان واقعات کو بیان فرمانے کا سب سے بڑا مقصد حضرت مخدوم العالمین سید المرسلین صلی علی کریم کے اس عالی مرتبہ کا بیان ہے جو بسبب انتہا درجہ کی محبت کے بدرجہ اتم آپ ہی پر منکشف ہوا۔حضور نے انبیاء علیم السلام کے واقعات زندگی بالخصوص آنحضرت صلی ظلم کی سیرت مبارکہ کے مطالعہ کی بڑی اہمیت بیان فرمائی ہے۔آپ اپنی تصنیف براہین احمدیہ میں فرماتے ہیں غرض انبیاء کے واقعات عمری اور ان کی سلامت روشی ایسی بدیہی اور ثابت ہے کہ اگر سب باتوں کو چھوڑ کر ان کے واقعات کو ہی دیکھا جائے تو ان کی صداقت انکے واقعات سے ہی روشن ہو رہی ہے مثلاً اگر کوئی منصف اور عاقل ان تمام براہین اور دلائل صدق نبوت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے جو اس کتاب میں لکھی جائیں گی قطع نظر کر کے محض ان کے حالات پر ہی غور کرے تو بلاشبہ انہیں حالات پر غور کرنے سے ان کے نبی صادق ہونے پر دل سے یقین کرے گا اور کیونکر یقین نہ کرے وہ واقعات ہی ایسے کمال سچائی اور صفائی سے معطر ہیں کہ حق کے طالبوں کے دل بلا اختیار ان کی طرف کھینچے جاتے ہیں۔“ ( براہین احمدیہ۔روحانی خزائن۔جلد 1 صفحہ 108) xiv