سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 4
2 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 3 قاضی مقرر کیے گئے اور اس عہدہ کی وجہ سے آپ کے گاؤں کا نام بجائے اسلام پور کے حکومت نے سکھوں کی حکومت کو تباہ کیا تو اُن کی جاگیر ضبط کی گئی مگر قادیان کی زمین پر اُن اسلام پور قاضی ہو گیا یعنی اسلام پور جو قاضی کا مقام ہے اور بگڑتے بگڑتے اسلام پور کا نام تو کو مالکیت کے حقوق دیے گئے۔بالکل مٹ گیا اور صرف قاضی رہ گیا جو پنجابی تلفظ میں قادی بن گیا اور آخر اس سے بگڑ کر اس گاؤں کا نام قادیان ہو گیا۔غرض مرزا ہادی بیگ صاحب نے خراسان سے آکر بیاس کے پاس ایک گاؤں آپ کا خاندانی تذکرہ تاریخوں میں یه مختصر حالات لکھنے کے بعد سر لیپل گریفن کی کتاب ” پنجاب چیفس“ کا وہ حصہ جو بسا کر اس میں بود و باش اختیار کی اور اسی جگہ پر ان کا خاندان ہمیشہ قیام پذیر رہا اور حضرت مرزا صاحب کے خاندان کے متعلق ہے ہم لکھ دینا مناسب سمجھتے ہیں:۔با وجود دہلی پایہ تخت حکومت سے دور رہنے کے اس خاندان کے ممبر مغلیہ حکومت کے ماتحت معزز عہدوں پر مامور رہے اور جب مغلیہ خاندان کو ضعف پہنچا اور پنجاب میں طوائف الملو کی پھیل گئی تو یہ خاندان ایک آزاد حکمران کے طور پر قادیان کے اردگرد کے علاقہ پر جو قریباً ساٹھ میل کا رقبہ تھا حکمران رہا لیکن سکھوں کے زور کے وقت رام گڑھیا سکھوں نے بعض اور خاندانوں کے ساتھ مل کر اس خاندان کے خلاف جنگ شروع کی اور گوان کے پڑدادا نے تو اپنے زمانہ میں ایک حد تک دشمن کے حملوں کو روکا لیکن آہستہ آہستہ (حضرت) مرزا صاحب کے دادا کے وقت اس ریاست کی حالت ایسی کمزور ہوگئی کہ صرف قادیان شہنشاہ بابر کے عہد حکومت کے آخری سال یعنی 1530ء میں ایک مغل مسمی ہادی بیگ باشندۂ سمر قندا اپنے وطن کو چھوڑ کر پنجاب میں آیا اور ضلع گورداسپور میں بود و باش اختیار کی۔یہ کسی قدر پڑھا لکھا آدمی تھا (۱) اور قادیان کے گرد و نواح کے ستر مواضعات کا قاضی یا مجسٹریٹ مقرر کیا گیا۔کہتے ہیں کہ قادیان اُس نے آباد کیا اور اُس کا نام اسلام پور قاضی رکھا جو بدلتے بدلتے قادیان (۲) ہو گیا۔کئی پشتوں تک یہ خاندان شاہی عہد حکومت میں معز ز عہدوں پر ممتاز رہا اور محض سکھوں کے عروج کے زمانہ میں یہ افلاس کی حالت میں ہو گیا تھا۔(مرزا) جو اُس وقت ایک قلعہ کی صورت میں تھا اور اس کے چاروں طرف فصیل تھی اُن کے قبضہ میں گل محمد اور اُس کا بیٹا عطا محمد رام گڑھیا اور کنھیا مسلوں سے جن کے قبضہ میں رہ گیا اور باقی سب علاقہ اُن کے ہاتھوں سے نکل گیا اور آخر بعض گاؤں کے باشندوں سے سازش کر کے سکھ اِس گاؤں پر بھی قابض ہو گئے اور اس خاندان کے سب مردوزن قید ہو گئے لیکن کچھ دنوں کے بعد سکھوں نے اُن کو اس علاقے سے چلے جانے کی اجازت قادیان کے گرد و نواح کا علاقہ تھا ہمیشہ لڑتے رہے۔آخر کار اپنی تمام جا گیر کو کھو کر عطا محمد بیگووال میں سردار فتح سنگھ اہلو والیہ (۳) کی پناہ میں چلا گیا اور بارہ سال تک امن و امان سے زندگی بسر کی۔اُس کی وفات پر رنجیت سنگھ نے جو رام دے دی اور وہ ریاست کپورتھلہ میں چلے گئے اور وہاں قریباً سولہ سال رہے۔اس کے بعد ا۔دراصل وہ بہت ذی علم وفہم اور مومن مرد خدا تھا۔( ناقل) مہا راجہ رنجیت سنگھ کا زمانہ آ گیا اور انہوں نے سب چھوٹے چھوٹے راجوں کو اپنے ماتحت پنجابی لوگ 'ض کوو بولتے ہیں اس لئے اسلام پور قاضیاں کا نام صرف قاضیاں یعنی قادیان بن گیا اور اسلام پور بالکل حذف کر لیا اور اس انتظام میں حضرت مرزا صاحب کے والد کو بھی اُس کی جاگیر کا بہت کچھ حصہ ہو گیا۔( ناقل) واپس کر دیا اور وہ اپنے بھائیوں سمیت مہا راجہ کی فوج میں ملازم ہو گئے اور جب انگریزی۔یہ نام یعنی اہلو والیہ مسل۔رام گڑھیا مسل۔کنھیا مسل سکھوں کے گروہوں کے نام ہیں۔