سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 35

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 5

سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام گڑھیا مسل کے تمام جا گیر پر قابض ہو گیا تھا، غلام مرتضیٰ کو قادیان واپس بلا لیا اور اس کی جدی جاگیر کا ایک بہت بڑا حصہ اُسے واپس دے دیا۔اس پر غلام مرتضیٰ اپنے بھائیوں سمیت مہا راجہ کی فوج میں داخل ہوا اور کشمیر کی سرحد اور دوسرے مقامات پر قابل قدر خدمات انجام دیں۔نو نہال سنگھ ، شیر سنگھ اور دربارِ لاہور کے دور دورے میں غلام مرتضیٰ ہمیشہ فوجی خدمت پر مامور رہا۔1841ء میں یہ جرنیل ونچورا کے ساتھ منڈی اور کلو کی طرف بھیجا گیا اور 1843ء میں ایک پیادہ فوج کا کمیدان بنا کر پشاور روانہ کیا گیا۔ہزارہ کے مفسدہ میں اُس نے کار ہائے نمایاں کیے اور جب 1848ء کی بغاوت ہوئی تو یہ اپنی سرکار کا نمک حلال رہا اور اس کی طرف سے لڑا۔اس موقعہ پر اس کے بھائی غلام محی الدین نے بھی اچھی خدمات کیں۔جب بھائی مہاراج سنگھ اپنی فوج لیے دیوان مولراج کی امداد کے لیے ملتان کی طرف جارہا تھا تو غلام محی الدین اور دوسرے جاگیرداران لنگر خان ساہیوال اور صاحب خان ٹوانہ نے مسلمانوں کو بھڑ کا یا اور مصر صاحب دیال کی فوج کے ساتھ باغیوں سے مقابلہ کیا اور اُن کو شکست فاش دی۔اُن کو سوائے دریائے چناب کے کسی اور طرف بھاگنے کا راستہ نہ تھا جہاں چھ سو سے زیادہ آدمی ڈوب کر مر گئے۔الحاق کے موقعہ پر اس خاندان کی جاگیر ضبط کی گئی مگر 700 روپیہ کی ایک پنشن غلام مرتضیٰ اور اس کے بھائیوں کو عطا کی گئی اور قادیان اور اُس کے گردو نواح کے مواضعات پر اُن کے حقوق مالکا نہ رہے۔اس خاندان نے غدر 1857ء کے دوران میں بہت اچھی خدمات کیں۔غلام مرتضی نے بہت سے آدمی بھرتی کیے اور اُس کا بیٹا غلام قادر جرنیل نکلسن صاحب بہادر کی فوج میں اُس وقت تھا جب کہ افسر موصوف نے تریمو گھاٹ پر سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 46 نیٹو انفنٹری کے باغیوں کو جو سیالکوٹ سے بھاگے تھے تہ تیغ کیا۔جنرل نکلسن صاحب بہادر نے غلام قادر کو ایک سند دی جس میں یہ لکھا ہے کہ 1857ء میں خاندان قادیان ضلع گورداسپور کے تمام دوسرے خاندانوں سے زیادہ نمک حلال رہا۔غلام مرتضیٰ جو ایک لائق حکیم تھا 1876ء میں فوت ہوا اور اس کا بیٹا غلام قادر اس کا جانشین ہوا۔غلام قادر حکام مقامی کی امداد کے لیے ہمیشہ تیار رہتا تھا اور اُس کے پاس ان افسران کے جن کا انتظامی امور سے تعلق تھا بہت سے سرٹیفکیٹ تھے۔یہ کچھ عرصہ تک گورداسپور میں دفتر ضلع کا سپر نٹنڈنٹ رہا۔اُس کا اکلوتا بیٹا کم سنی میں فوت ہو گیا اور اُس نے اپنے بھتیجے سلطان احمد کو متبنی کر لیا جو غلام قادر کی وفات یعنی 1883ء سے خاندان کا بزرگ خیال کیا جاتا ہے۔مرزا سلطان احمد نے نائب تحصیلداری سے گورنمنٹ کی ملازمت شروع کی اب اکسٹرا اسٹنٹ ہے۔یہ قادیان کا نمبردار بھی ہے۔نظام الدین کا بھائی امام الدین جو 1904ء میں فوت ہوا دہلی کے محاصرے کے وقت ہاڈسن ہورس ( رسالہ ) میں رسالدار تھا۔اس کا باپ غلام محی الدین تحصیلدار تھا۔یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ غلام احمد جو غلام مرتضی کا چھوٹا بیٹا تھا مسلمانوں کے ایک مشہور مذہبی فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا۔پیشخص 1837ء میں پیدا ہوا اور اس کو تعلیم نہایت اچھی ملی۔1891ء میں اُس نے بموجب مذہب اسلام مہدی یا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا، چونکہ یہ ایک عالم اور منطقی تھا اس لیے دیکھتے ہی دیکھتے بہت سے لوگ اس کے معتقد ہو گئے اور اب احمدیہ کی تعداد پنجاب اور ہندوستان کے دوسرے حصوں میں تین لاکھ کے قریب بیان کی جاتی ہے۔مرزا، عربی فارسی اور اُردو کی بہت سی کتابوں کا مصنف تھا جن میں اُس نے جہاد کے مسئلہ کی تردید کی 5 4