سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 23
40 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 41 ہاتھ میں دے دیتے بلکہ انہوں نے آپ کو بری کیا اور اس طرح رومن حکومت پر برٹش راج تھا خصوصاً اس شخص پر اور دیر تک گاڑی سے سر نکال کر اس شخص کو دیکھتا رہا۔لاہور سے کی برتری ثابت کر دی۔انہی دنوں میں آپ نے الصُّلْحُ خَيْر“ کے نام سے ایک اشتہار شائع کر کے 66 مسلمان علماء کے آگے تجویز پیش کی کہ وہ آپ کی مخالفت سے باز آجائیں اور آپ کو دشمنوں کا مقابلہ کرنے دیں اور اس کے لیے 10 دس سال کی مدت مقرر کی کہ اس معیاد کے اندرا گر حضرت صاحب سید ھے قادیان تشریف لے آئے۔پنجاب میں طاعون اور حضور کی احتیاطی تدابیر اُسی سال ملک پنجاب میں طاعون پھوٹا اور جب کہ تمام مذہبی آدمی اُن تدابیر کے میں جھوٹا ہوں تو خود تباہ ہو جاؤں گا اور اگر سچا ہوں تو تم عذاب سے بچ جاؤ گے جو بچوں کی سخت مخالف تھے جو گورنمنٹ نے انسدادِ طاعون کے متعلق نافذ کی تھیں۔آپ نے بڑے مخالفت کے سبب خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔لیکن مسلمانوں نے اس کو قبول نہ زور سے اُن کی تائید کی اور اپنی جماعت کو آگاہ کیا کہ ان تدابیر کو اختیار کرنے میں کوئی حرج کیا اور دشمنان اسلام سے مقابلہ کرنے کی بجائے اپنے سے ہی مقابلہ پسند کیا۔ایک سفر نہیں بلکہ اسلام کا حکم ہے کہ ہر قسم کی تدابیر جو حفظانِ صحت کے متعلق ہوں اُن پر عمل کیا جائے اور اس طرح آپ نے امنِ عامہ کے قیام میں بہت بڑا کام کیا۔کیونکہ اس وقت لوگوں میں اکتوبر 1897ء میں آپ کو ایک شہادت پر ملتان جانا پڑا۔وہاں شہادت دے کر جب عام طور پر یہ بات پھیلائی جاتی تھی کہ گورنمنٹ خود ہی طاعون پھیلاتی ہے اور جو تدابیر اس واپس تشریف لائے تو کچھ دنوں لاہور بھی ٹھہرے۔یہاں جن جن گلیوں سے آپ گذرتے کے انسداد کی ظاہر کی جاتی ہیں وہ در حقیقت اس وباء کو پھیلانے والی ہیں اور اسلام کے بھی ان میں لوگ آپ کو گالیاں دیتے اور پکار پکار کر بُرے الفاظ آپ کی شان میں زبان سے خلاف ہیں۔چنانچہ علماء نے بڑے زور کے ساتھ فتویٰ دے دیا تھا کہ طاعون کے دنوں نکالتے۔میری عمر اس وقت آٹھ سال کی تھی اور میں بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ تھا۔میں میں گھر سے نکلنا سخت گناہ ہے اور اس طرح ہزاروں جاہلوں کی موت کا باعث ہو گئے۔اس مخالفت کی جو لوگ آپ سے کرتے تھے وجہ تو نہیں سمجھ سکتا تھا اس لیے یہ دیکھ کر مجھے سخت چوہے مارنے کی گولیاں تقسیم کی گئیں تو انہی کو باعث طاعون قرار دیا گیا۔پنجرے دیئے گئے تعجب آتا کہ جہاں سے آپ گذرتے ہیں لوگ آپ کے پیچھے کیوں تالیاں پیٹتے ہیں ، سیٹیاں تو اُن پر اعتراض کیا گیا۔غرض اس طرح شورش برپاتھی اور بعض جگہ حکام سرکار پر حملے بھی بجاتے ہیں؟ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ ایک ٹنڈ اشخص جس کا ایک پہنچا کٹا ہوا تھا اور بقیہ ہاتھ پر ہوئے۔ایسے وقت میں آپ کے اعلان اور آپ کی جماعت کے عمل کو دیکھ کر دوسرے کپڑا باندھا ہوا تھا نہیں معلوم کہ ہاتھ کے کٹنے کا ہی زخم باقی تھا یا کوئی نیا زخم تھا وہ بھی لوگوں لوگوں کو بھی ہدایت ہوئی اور آپ نے مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ طاعون کے دنوں میں گھروں میں شامل ہو کر غالباً مسجد وزیر خاں کی سیڑھیوں پر کھڑا تالیاں پیٹتا اور اپنا کٹا ہوا ہاتھ سے باہر نکلنا اور بستی سے باہر رہنا اسلام کی رُو سے منع نہیں بلکہ منع صرف یہ بات ہے کہ ایک دوسرے ہاتھ پر مارتا تھا اور دوسروں کے ساتھ مل کر شور مچا رہا تھا: ہائے ! ہائے مرزا نٹھ شہر سے بھاگ کر دوسرے شہر میں جائے کیونکہ اس سے بیماری کے دوسرے شہروں میں گیا،، ( یعنی میدان مقابلہ سے فرار کر گیا ) اور میں اس نظارہ کو دیکھ کر سخت حیران پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔