سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 24
42 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قانونِ سٹیشن پر گورنمنٹ کو میموریل اور تجاویز یہ ایام مذہبی بحث مباحثہ کے سبب سخت خطرناک ہو رہے تھے اور 1897ء اور 1898 ءئن خاص طور پر ممتاز تھے۔آپس کی مخالفت سخت بڑھ رہی تھی اور سیاسی مفسدہ سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مذاہب پر حملہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔43 (2) اگر یہ طریق منظور نہ ہو تو کم سے کم یہ کیا جائے کہ کسی مذہب پر ایسے حملے کرنے سے لوگوں کو روک دیا جائے جو خود اُن کے مذہب پر پڑتے ہوں۔یعنی اپنے مخالف کے خلاف وہ ایسی باتیں پیش نہ کریں جو خود ان کے ہی مذہب میں موجود ہوں۔پرداز اس مذہبی دشمنی سے فائدہ اُٹھا کر گورنمنٹ کے خلاف لوگوں کو اُکسانے میں مشغول (3) اگر یہ بھی نا پسند ہو تو گورنمنٹ ہر ایک فرقہ سے دریافت کر کے اس کی مسلمہ کتب مذہبی کی ایک فہرست تیار کرے اور یہ قانون پاس کر دیا جائے کہ اس مذہب پر ان کتابوں سے باہر کوئی اعتراض نہ کیا جائے کیونکہ جب اعتراضات کی بنیادصرف خیالات یا جھوٹی روایات پر ہو جنہیں اس مذہب کے پیر و تسلیم ہی نہیں کرتے تو پھر اُن کے رُو سے اعتراض کرنے کا نتیجہ با ہمی بغض و عداوت ترقی کرنے کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔تھے اور اسی شرارت کو محسوس کر کے گورنمنٹ نے 1897ء میں سٹیشن کا قانون بھی پاس کیا تھا لیکن باوجود اس قانون کے ہندوستان امن سے فساد کی طرف منتقل ہو رہا تھا اور اس قانون کا کوئی عمدہ نتیجہ نہ نکلا تھا کیونکہ ہندوستان ایک مذہبی ملک ہے اور یہاں کے لوگ جتنے مذہب کے معاملہ میں جوش میں آسکتے ہیں اتنے سیاسی امور میں نہیں آتے۔لیکن اس قانون میں مذہبی لڑائی جھگڑوں کا سد باب نہیں کیا گیا تھا اور نہ اس کی ضرورت گورنمنٹ اُس وقت محسوس کرتی تھی مگر جس بات کو مد برانِ حکومت سمجھنے سے قاصر تھے حضرت مسیح موعود علیہ اگر اس تحریک پر گورنمنٹ اُس وقت عمل کرتی تو جو فتنے اور فساد ہندوستان میں پہلے السلام ایک گوشہ تنہائی میں بیٹھے اسے دیکھ رہے تھے چنانچہ تمبر 1897ء میں ایک میموریل دنوں نمودار ہوئے وہ کبھی نہ ہوتے لیکن گورنمنٹ نے اس موقعہ پر اس ضرورت کو محسوس نہ کیا تیار کر کے لارڈ ایجن بہادر وائسرائے ہند کی خدمت میں ارسال کیا اور اُسے چھاپ کر اور اس کے مدبران سلطنت کی آنکھ اُن جراثیم کی بڑھنے والی طاقت کو نہ دیکھ سکی جنہیں اس شائع بھی کر دیا۔اُس میں آپ نے ہز ایکسی لینسی کو بتایا کہ فتنہ وفساد کا اصلی باعث مذہبی نبی وقت نے اُن کی ابتدائی حالت میں دیکھ لیا تھا مگر 1908ء میں پورے دس سال بعد جھگڑے ہیں ان کے نتیجہ میں جو شورش لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے اُسے بعض شریر گورنمنٹ کو مجبورا یہ قانون پاس کرنا پڑا کہ ایک مذہب کے لوگوں کو دوسرے مذہب پر حملہ گورنمنٹ کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔پس قانون سٹڈیشن میں مذہبی سخت کلامی کو بھی کرنا اور ناروا سختی کرنی درست نہیں اور اگر کوئی ایسا کرے تو اس پمفلٹ یا مضمون کے داخل کرنا چاہیے اور اس کے لیے آپ نے تین تجاویز بھی پیش کیں۔چھاپنے والے پر لیس یا اخبار کی ضمانت لی جائے یا اسے ضبط کیا جائے۔لیکن یہ قانون اس (1) اوّل یہ کہ قانون پاس کر دینا چاہیے کہ ہر ایک مذہب کے پیرو اپنے مذہب کی خوبیاں تو قدر عرصہ کے بعد پاس ہوا کہ اس کا وہ اثر اب نہیں ہو سکتا جو اُس وقت ہو سکتا تھا۔دراصل بے شک بیان کریں لیکن دوسرے مذہب پر حملہ کرنے کی ان کو اجازت نہ ہوگی۔اس ہندوستان کے سارے فتنے کی جڑ مذہبی جھگڑا ہے جو بعض شریروں کی عجیب پیچ در پیچ قانون سے نہ تو مذہبی آزادی میں فرق آوے گا اور نہ کسی خاص مذہب کی طرفداری سازشوں کے ساتھ گورنمنٹ کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے اور جب کسی مذہب کے پیرؤں ہوگی اور کوئی وجہ نہیں کہ کسی مذہب کے پیرو اس بات پر ناخوش ہوں کہ اُن کو دوسرے کی سب سے پیاری چیز ( اُن کے مذہب ) پر گندے الفاظ میں حملہ کیا جائے تو جاہل عوام کو