سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 35

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 17

28 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 29 کے خلاف جوش پھیلایا جاتا تھا آپ کے وہاں پہنچتے ہی وہاں کے علماء میں ایک جوش پیدا ہوا مجمع کے انتظام کے لیے سپر نٹنڈنٹ پولیس مع دیگر افسران پولیس اور قریباً سو کانسٹیبلوں اور انہوں نے آپ کو مباحثہ کے چیلنج دینے شروع کیے اور مولوی نذیرحسین جو تمام ہندوستان کے آئے ہوئے تھے۔لوگوں میں سے بہتوں نے اپنے دامنوں میں پتھر بھرے ہوئے تھے کے علماء حدیث کے اُستاد تھے ، اُن سے مباحثہ قرار پایا۔مسجد جامع مقام مباحثہ قرار پائی اور ادنیٰ سے اشارے پر پتھراؤ کرنے کو تیار تھے اور مسیح ثانی بھی پہلے مسیح کی طرح فقیہیوں لیکن مباحثہ کی یہ سب قرار داد مخالفین نے خود ہی کر لی۔کوئی اطلاع آپ کو نہ دی گئی۔عین اور فریسیوں کا شکار ہو رہا تھا۔لوگ اس دوسرے صحیح کو سولی پر لٹکانے کی بجائے پتھروں سے وقت پر حکیم عبدالمجید خان صاحب دہلوی اپنی گاڑی لے کر آ گئے اور کہا کہ مسجد میں مباحثہ مارنے پر تلے ہوئے تھے اور گفتگوئے مباحثہ میں تو انہیں نا کامی ہوئی۔مسیح کی وفات پر بحث ہے۔آپ نے فرمایا کہ ایسے فساد کے موقعہ پر ہم نہیں جاسکتے جب تک پہلے سرکاری انتظام کرنا لوگوں نے قبول نہ کیا۔قسم بھی نہ کسی نے کھائی نہ مولوی نذیرحسین کو کھانے دی۔خواجہ نہ ہو، پھر مباحثہ کے لیے ہم سے مشورہ ہونا چاہیے تھا اور شرائط مباحثہ طے کرنی تھیں۔آپ محمد یوسف صاحب پلیڈ ر علیگڑھ نے حضرت سے آپ کے عقائد لکھائے اور سنانے چاہیے کے نہ جانے پر اور شور ہوا۔آخر آپ نے اعلان کیا کہ مولوی نذیر حسین دہلوی جامع مسجد لیکن چونکہ مولویوں نے لوگوں کو یہ سنا رکھا تھا کہ یہ شخص نہ قرآن کو مانے نہ حدیث کو نہ میں قسم کھا لیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام قرآن کی رو سے زندہ ہیں اور اب تک فوت نہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو۔انہیں یہ فریب گھل جانے کا اندیشہ ہوا، اس لیے لوگوں ہوئے اور اس قسم کے بعد ایک سال تک کسی آسمانی عذاب میں مبتلا نہ ہوں تو میں جھوٹا ہوں اور میں اپنی کتب کو جلا دوں گا اور اس کے لیے تاریخ بھی مقرر کر دی۔مولوی نذیرحسین صاحب کے شاگرد اس سے سخت گھبرائے اور بہت روکیں ڈالنی شروع کر دیں لیکن لوگ مصر ہوئے کہ اس میں کیا حرج ہے کہ مرزا صاحب کا دعوی سن کر قسم کھا جائیں کہ یہ جھوٹا ہے اور لوگ اُس وقت کثرت سے جامع مسجد میں اکٹھے ہو گئے۔حضرت صاحب کو لوگوں نے بہت روکا کہ آپ نہ جائیں سخت بلوہ ہو جائیگا لیکن آپ وہاں گئے اور ساتھ آپ کے بارہ دوست تھے ( حضرت مسیح کے بھی بارہ ہی حواری تھے۔اس معرکۃ الآراء موقعہ پر آپ کے کو اُکسا دیا۔پھر کیا تھا ایک شور برپا ہو گیا اور محمد یوسف کو وہ کاغذ سنانے سے لوگوں نے باز رکھا۔افسر پولیس نے جب دیکھا کہ حالت خطر ناک ہے تو پولیس کو مجمع منتشر کرنے کا حکم دیا اور اعلان کیا کہ کوئی مباحثہ نہ ہوگا۔لوگ تتر بتر ہو گئے۔پولیس آپ کو حلقہ میں لے کر مسجد سے باہر گئی۔دروازہ پر گاڑیوں کے انتظار میں کچھ دیر ٹھہر نا پڑا۔لوگ وہاں جمع ہو گئے اور اشتعال میں آکر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔اس پر افسران پولیس نے گاڑی میں سوار کرا کر اس کے بعد مولوی محمد بشیر صاحب کو دہلی کے لوگوں نے بھوپال سے بلوایا اور اُن سے آپ کو روانہ کیا اور خود مجمع کے منتشر کرنے میں لگ گئے۔ساتھ یہ تعداد بھی ایک نشان تھی ) جامع مسجد دہلی کی وسیع عمارت اندر اور باہر آدمیوں سے پر تھی بلکہ سیڑھیوں پر بھی لوگ کھڑے تھے۔ہزاروں آدمیوں کے مجمع میں سے گزر کر جب کہ سب لوگ دیوانہ وارخون آلود نگاہوں سے آپ کی طرف دیکھ رہے تھے آپ اس مختصر مباحثہ ہوا جس کا تمام حال چھپا ہوا موجود ہے۔جماعت کے ساتھ محراب مسجد میں جا کر بیٹھ گئے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے 17 اکتوبر 1891ء کو یہ اشتہار شائع فرمایا تھا اور مقررہ تاریخ 20 اکتوبر 1891ء کو بوقت عصر جامع مسجد دہلی میں آنے کی دعوت دی تھی۔( ناقل) ڈپٹی عبد اللہ آتھم سے مباحثہ کے حالات کچھ دن کے بعد آپ واپس قادیان تشریف لے آئے۔چند ماہ کے بعد 1892ء میں