سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 35

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 6

6 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور یہ گمان کیا جاتا ہے کہ اُن کتابوں نے مسلمانوں پر اچھا اثر کیا ہے۔مدت تک یہ بڑی مصیبت میں رہا کیونکہ مخالفین مذہب سے اس کے اکثر مباحثے اور مقدمے رہے لیکن اپنی وفات سے پہلے جو 1908ء میں ہوئی اس نے ایک رتبہ حاصل کر لیا کہ وہ لوگ بھی جو اُس کے خیالات کے مخالف تھے اس کی عزت کرنے لگے۔اس فرقہ کا صدر مقام قادیان ہے جہاں انجمن احمد یہ نے ایک بہت بڑا سکول کھولا ہے اور چھا پہ خانہ بھی ہے جس کے ذریعہ سے اس فرقہ کے متعلق خبروں کا اعلان کیا جاتا ہے۔مرزا غلام احمد کا خلیفہ ایک مشہور حکیم مولوی نورالدین ہے جو چند سال مہاراجہ کشمیر کی ملازمت میں رہا ہے۔اس خاندان کے سالم موضع قادیان پر جو ایک بڑا موضع ہے، حقوق مالکانہ ہیں اور نیز تین ملحقہ مواضعات پر بشرح پانچ فیصدی حقوق تعلق داری حاصل ہیں۔( دی پنجاب چیفس حصہ اوّل مطبوعہ 1919ء لاہور ) پیدائش حضرت اقدس علیہ السلام و زمان طفولیت و تذکرہ والد بزرگوار۔حضرت مرزا صاحب کے خاندان کے مختصر حالات لکھنے کے بعد ہم آپ کے حالات بیان کرنے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔جیسا کہ شروع میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ 1836ء یا 1837ء میں پیدا ہوئے تھے جو کہ آپ کے والد کے عروج کا زمانہ تھا کیونکہ اُس وقت اُن کو جاگیر کے بعض مواضع اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوجی خدمت کی وجہ سے اچھی عظمت حاصل تھی لیکن منشاء الہی یہ تھا کہ ایک ایسے رنگ میں پرورش پائیں جس میں آپ کی توجہ خدا تعالیٰ کی طرف ہو۔اس لیے آپ کی پیدائش کے تین ہی سال بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات کے ساتھ ہی سکھ حکومت پر زوال آ گیا اور اس زوال کے ساتھ آپ کے والد صاحب بھی مختلف تفکرات میں مبتلا ہو گئے اور آخر الحاق پنجاب کے موقعہ پر اُن کی جائیداد سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 7 ضبط ہوگئی اور باوجود ہزاروں روپیہ خرچ کرنے کے وہ اپنی جاگیر واپس نہ لے سکے جس کا صدمہ اُن کے دل پر آخری دم تک رہا چنانچہ خود حضرت مرزا صاحب اپنی ایک کتاب میں تحریر فرماتے ہیں کہ :- ”میرے والد صاحب اپنی ناکامیوں کی وجہ سے اکثر مغموم اور مہموم رہتے تھے۔انہوں نے پیروی مقدمات میں ستر ہزار کے قریب روپیہ خرچ کیا تھا جس کا انجام آخر کار نا کا می تھی کیونکہ ہمارے بزرگوں کے دیہات مدت سے ہمارے قبضہ سے نکل چکے تھے اور اُن کا واپس آنا ایک خام خیال تھا۔اسی نامرادی کی وجہ سے حضرت والد صاحب مرحوم ایک نہایت عمیق گرداب غم اور حزن اور اضطراب میں زندگی بسر کرتے تھے اور مجھے ان حالات کو دیکھ کر ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے کا موقعہ حاصل ہوتا تھا کیونکہ حضرت والد صاحب کی تلخ زندگی کا نقشہ مجھے اس بے لوث زندگی کا سبق دیتا تھا جو دنیاوی کدورتوں سے پاک ہے۔اگر چہ حضرت مرزا صاحب کے چند دیہات ملکیت باقی تھے اور سر کا رانگریزی کی طرف سے کچھ انعام سالا نہ مقرر تھا اور ایام ملا زمت کی پنشن بھی تھی مگر جو کچھ وہ دیکھ چکے تھے اس لحاظ سے وہ سب کچھ بیچ تھا۔اس وجہ سے وہ ہمیشہ مغموم اور محزون رہتے تھے اور بارہا کہتے تھے کہ جس قدرمیں نے اس پلید دنیا کے لیے سعی کی ہے اگر میں وہ سعی دین کے لیے کرتا تو آج شاید قطب وقت یا غوث وقت ہوتا اور اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔ع عمر بگذشت نماند است جز آیا می چند به که در یاد کسے صبح کنم شامے چند اور میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ وہ اپنا بنایا ہوا شعر رقت کے ساتھ پڑھتے اور وہ یہ ہے ہے