سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 35

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 7

8 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام از درے تو اے کسے ہر بے کسے نیست امیدم که بروم نا امید اور کبھی در دول سے یہ شعر اپنا پڑھا کرتے تھے بعے باب دیده عشاق و خاکپائے کیسے مرادی است کہ درخون تپد بجائے کیسے سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 9 نے کبھی اس کی طرف التفات نہ کی اور اس سے ایسی جدائی اختیار کی کہ پھر اس سے کبھی نہ انہیں پھراس نہ ملا۔غرض مرزا صاحب کو اپنی بچپن کی عمر سے ہی اپنے والد کی زندگی میں ایک ایسا تلخ نمونہ دیکھنے کا موقع ملا کہ دنیا سے آپ کی طبیعت سرد ہوگئی اور جب آپ بہت ہی بچہ تھے تب بھی آپ کی تمام تر خواہشات رضائے الہی کے حصول میں ہی لگی ہوئی تھیں۔چنانچہ آپ کے حضرت عزت جلشانہ کے سامنے خالی ہاتھ جانے کی حسرت روز بروز سوانح نویس شیخ یعقوب علی صاحب آپ کے سوانح میں ایک عجیب واقعہ جو آپ کی نہایت آخری عمر میں اُن پر غلبہ کرتی گئی تھی۔بار ہا افسوس سے کہا کرتے تھے کہ دنیا کے بے ہودہ خرخشوں کے لیے میں نے اپنی عمر نا حق ضائع کر دی۔بچپن ہی میں عبادت الہی کا شوق اس تحریر سے جو حضرت مرزا صاحب نے اپنے والد کی اس حالت کے متعلق لکھی ہے - بچپن کی عمر کے متعلق ہے تحریر کرتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ جب آپ کی عمر نہایت چھوٹی تھی تو اُس وقت آپ ایک اپنی ہم سن لڑکی کو جس سے بعد میں آپ کی شادی بھی ہوگئی ، کہا کرتے تھے کہ نا مرا دے دعا کر کہ خدا میرے نماز نصیب کرے“ اس فقرہ سے جو نہایت بچپن کی عمر کا ہے پتہ چلتا ہے کہ نہایت پچپن کی عمر سے آپ کے جس میں آپ کے زمانہ طفولیت اور جوانی کے وقت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے دل میں کیسے جذبات موجزن تھے اور آپ کی خواہشات کا مرکز کس طرح خدا ہی خدا ہورہا تھا ایسے رنگ میں آپ کی تربیت فرمائی تھی کہ جس کی وجہ سے دنیا کی محبت آپ کے دل میں پیدا اور ساتھ ہی اس ذہانت کا پتہ چلتا ہے جو بچپن کی عمر سے آپ کے اندر پیدا ہوگئی تھی کیونکہ اس ہی نہ ہونے پائی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے والد اور بڑے بھائی کی دنیا وی حالت فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت بھی آپ تمام خواہشات کو پورا کرنے والا خدا تعالیٰ کو ہی اُس وقت بھی ایسی تھی کہ وہ دنیاوی لحاظ سے معزز و ممتاز کہلاتے تھے اور حکام اُن کا ادب و سمجھتے تھے اور عبادت کی توفیق کا دینا بھی اسی پر موقوف جانتے تھے۔نماز پڑھنے کی خواہش کرنا لحاظ کرتے تھے لیکن پھر بھی اُن کا دنیا کے پیچھے پڑنا اور اپنی ساری عمر اس کے حصول کے لیے اور اس خواہش کو پورا کرنے والا خدا تعالیٰ کو ہی جاننا اور پھر اس گھر میں پرورش پا کر جس کے خرچ کر دینا لیکن پھر بھی اس کا اس حد تک ان کو حاصل نہ ہونا جس حد تک کہ وہ اُس پر چھوٹے بڑے دنیا کو ہی اپنا خدا سمجھ رہے تھے، ایک ایسی بات ہے جو سوائے کسی ایسے دل کے خاندانی حق خیال کرتے تھے اس پاک دل کو جو اپنے اندر کسی قسم کی میل نہ رکھتا تھا یہ بتا دینے جو دنیا کی ملونی سے ہر طرح پاک ہو اور دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر دینے کے لیے خدا تعالیٰ سے تائید یافتہ ہو، نہیں نکل سکتی۔کے لیے کافی تھا کہ دنیا روزے چند اور آخرت با خداوند۔چنانچہ اس نے اپنے بچپن کی عمر سے اس سبق کو ایسا یاد کیا کہ اپنی وفات تک نہ بھلایا اور گو دنیا طرح طرح کے خوبصورت لباسوں میں اس کے سامنے آئی اور اُس کو اپنے راستہ سے ہٹا دینے کی کوشش کی لیکن اس حصول تعلیم کا زمانہ جس زمانہ میں آپ پیدا ہوئے ہیں وہ نہایت جہالت کا زمانہ تھا اور لوگوں کی تعلیم کی