سیرت احمد

by Other Authors

Page 17 of 131

سیرت احمد — Page 17

21 20 روایت ۱۲ ساتھ تھے نیچے بہت سے لوگ حضور کے ساتھ ہو لئے۔ملاوامل نے قریب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہو کر کان میں کہا۔ان لوگوں کو منع کر دو۔آپ نے زور سے فرمایا۔میں اور ایک دفعہ حضرت صاحب کو کھانسی ہو رہی تھی۔دوائی میں پلایا کرتا تھا ملاوائل اور ڈاکٹر عبداللہ صاحب جائیں گے۔سب لوگ واپس ہو گئے۔کئی کئی دفعہ دن میں اور کئی دفعہ رات کو اٹھ اٹھ کر میں حضرت صاحب کو معلوم ہوا کہ شرمیت بیمار ہے۔آپ شرمیت کے مکان پر پہنچے۔وہاں جا کر دوائی دیا کرتا تھا۔میں دن میں حضور کے پاس گیا۔کیا دیکھتا ہوں حضور سیب آپ نے اس کو دیکھا۔میں نے بھی دیکھا۔شرمیت کے ناف کے اوپر پھوڑا کھا رہے ہیں۔میں نے عرض کیا۔یہ ترش ہیں اور کھانسی اور زیادہ ہوگی۔تھا۔آپ نے مجھ سے فرمایا دیکھا۔میں نے کہا حضور چیرا دیا جائے گا۔آپ مجھے خیال تھا کہ اگر بیماری زیادہ ہوئی مجھے بار بار اٹھنے کی اور تکلیف ہوگی۔نے فرمایا ملاوامل تم ڈاکٹر صاحب کے ساتھ جاؤ۔یہ اوزار لے آویں گے آپ مسکراتے جاتے تھے۔میں نے پھر عرض کیا۔حضرت اس سے کھانسی اور چیرا دے کر دوائی وغیرہ لگا دیا کریں گے۔حضور واپس تشریف لے گئے۔زیادہ ہوگی اور یہ ترش ہے۔آپ پھر کھانے لگے اور ہنستے جاتے تھے۔آخر میں نے چیرا دیا۔بڑی پیپ وغیرہ نکلی زخم بڑا تھا۔ایک ماہ سے کچھ دن زیادہ میں مجھے فرمایا ابھی الہام ہوا ہے کہ احتیاط کی ضرورت نہیں اب آرام ہو علاج ہو تا رہا۔آخر میں آکر زخم مسور کے دانہ کے برابر رہ گیا۔مگر وہ ٹھیک جائے گا۔میں اس حکم کی تعمیل میں کھاتا ہوں۔ہونے میں نہیں آتا تھا۔ایک دن میری بیوی نے سنایا کہ میں نے خواب میں دیکھا۔ایک مسور کے دانہ کے برابر زخم ہے وہ مجھ سے کہتا ہے کہ میں روایات ۱۳ ڈاکٹر عبد اللہ صاحب ایک دن دوپہر کے وقت میں مسجد مبارک میں گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ شرمیت کا زخم ہوں اور ایک وجہ سے راضی نہیں ہو تاور نہ کبھی کا راضی ہو جاتا۔وہ وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس روپیہ ابھی نہیں ہے جو فیس دے۔اس لئے راضی نہیں ہوتا۔اسی واسطے مجھے جلایا جاتا ہے۔میں نے خواب سے ملاوائل مسجد میں کھڑا ہے۔میں نے پوچھا تم کیوں کھڑے ہو کہا۔مرزا معلوم کیا کہ فیس کا تقاضا کروں۔مگر چونکہ حضرت صاحب کا دخل تھا۔میں صاحب کو بلایا ہے۔میں بھی ٹھر گیا کہ زیارت کرلوں گا۔تقریباً دس منٹ نے سوچا اجازت حضرت صاحب کی ضروری ہے۔میں نے حضرت مولوی کے بعد حضرت صاحب تشریف لائے۔حضور نے اندر سے آتے ہی السلام عبد الکریم صاحب سے ذکر کیا۔آپ نے فرمایا فیس کیوں چھوڑنی ہے لے علیکم کہا۔میں نے و علیکم السلام کہا۔حضور نے فرمایا اچھا تمہاری ہی ضرورت لو۔میں نے کہا جب ایک جلیل القدر عالم کہتے ہیں لے لوں۔چنانچہ میں نے تھی (میں خاموش رہا بوجہ ادب کے) آپ نیچے اترے۔میں اور ملاوائل اگلے دن شرمیت کو ہنستے ہوئے کہا کہ لالہ جی زخم تو تقریباً اچھا ہو گا مگر دو