سیرت احمد — Page 18
23 22 کہاں سے میں نے عرض کیا۔رات بٹالہ تھا اب آیا ہوں۔فرمایا پیدل۔میں نے عرض کیا ہاں۔آپ نے فرمایا کتنی رخصت۔صرف دو دن۔اوہو۔تکلیف ہوئی ہوگی۔میں نے عرض کیا حضرت کوئی تکلیف نہیں۔آپ نے فرمایا اچھا بتاؤ۔چاء پیو گے یا لسی۔میں نے کہا نہیں حضرت۔آپ نے فرمایا تکلف کی ضرورت نہیں۔ہمارے گھر میں گائے ہے وہ تھوڑا سا دودھ دیتی ہے۔ہمارے گھر کے لوگ دہلی گئے ہوئے ہیں۔کسی بھی موجود ہے چاء بھی۔جو چاؤ سوپی لو۔میں نے کہا اچھا حضرت لسی پی لونگا۔آپ نے فرمایا چھا چلو مسجد مبارک میں بیٹھو۔چنانچہ میں مسجد میں آیا۔اور بیٹھ گیا۔تھوری دیر بعد بیت الفکر کا دروازہ کھلا۔کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت صاحب نکلے اور آپ روپے روزانہ فیس کے حساب سے ساٹھ ستر روپے فیس دلوائیے۔اس نے کہا بہت اچھا دیں گے۔اگلے دن گیارہ بجے ایک آدمی میرے پاس آیا کہ حضرت صاحب بلاتے ہیں۔میں مسجد مبارک میں گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں حضرت صاحب اور شرمیت بیٹھے ہیں۔آپ نے فرمایا ڈاکٹر صاحب لالہ شرمیت کے ذمہ تمہاری فیس کے ساٹھ ستر روپے ہو گئے۔میں نے کہاہاں حضور ہو تو گئی ہے۔آپ نے فرمایا۔اچھا میں کہتا ہوں تم معاف کر دو۔میں نے عرض کیا بہت اچھا حضور میں نے معاف کیا۔پھر میں نے اپنی بیوی کا خواب متذکرہ صدر سنایا۔حضور ہنس پڑے اور فرمایا مجھے ایک دن سخت درد پیٹ میں ہوتی تھی۔درد کے درمیان آنکھ لگی۔میں دیکھتا ہوں ایک شیشی ہے۔وہ کہتی ہے ” خاکسار پیپر منٹ" پھر آنکھ کھل گئی۔میں سمجھ گیا۔نے ایک ہانڈی کو ری معہ کوری چینی کے جس میں لسی تھی اٹھائی ہوئی ہے۔پیپر منٹ منگا کر کھایا۔فوراً آرام ہو گیا۔ایک دفعہ میں لاہور سے دودن کی چینی پر نمک ہے نمک پر گلاس ہے۔حضور نے لا کر میرے آگے رکھا اور خود گلاس میں کسی ڈالنے لگے۔مجھے حضور کی شفقت پر کمال خوشی ہوئی۔میں نے گلاس پکڑ لیا۔اتنے میں چند دوست اور آگئے۔میں نے خود بھی وہ لسی پی۔اور اور دوستوں کو بھی پلائی۔پھر حضور خود وہ ہانڈی اور گلاس اندر لے گئے۔یہ حضور کے اخلاق فاضلہ کی ایک ادنیٰ مثال ہے۔رخصت لیکر آیا۔شام کو بٹالہ اترا۔رات کو بٹالہ رہا صبح اول وقت اٹھ کر چلا۔نماز فجر راستہ میں پڑھی۔سورج نکلا ہی تھا کہ قادیان آگیا۔میں بازار کی طرف آرہا تھا کہ جب میں مسجد کے سامنے سے بڑی حویلی کے پاس آیا۔سامنے جہاں آج کل حضرت میاں شریف احمد صاحب کا چوبارہ ہے۔اس کے پاس والے مکان کی جگہ سفید زمین پڑی تھی۔وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مزدور کچھ اینٹیں سی نکال رہا ہے۔اور حضرت صاحب اس کے پاس کھڑے ہیں۔میں نے حضرت صاحب کو دیکھا۔حضرت صاحب نے مجھے دیکھ لیا۔آپ فور مزدور کے پاس سے آکر راستہ پر کھڑے ہو گئے۔میں قریب گیا۔السلام علیکم کہا۔آپ نے وعلیکم السلام فرمایا۔اور کہا اس وقت روایت ۱۴ احمد نور صاحب مهاجر کابلی ایک دفعہ بارش بہت کثرت سے ہوئی اور مینہ بند نہ ہو تا تھا۔تھوڑے دنوں بعد پھر بارش ہو جاتی۔میرا امکان چونکہ ڈھاب کے کنارہ پر تھا۔وہاں