سیرت احمد — Page 16
19 18 سلام پہنچایا ہے جو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ جب مسیح مہدی آوے اس کو میرا اسلام علیکم پہنچانا۔آپ نے تبسم لب ہو کر فرمایا لیا۔اور پولیس دونوں جانب ایک راستہ بناتی جاتی تھی۔انسپکٹر پولیس ساتھ تھا۔حضور کو مکان تک پہنچا کر وہ لوگ واپس گئے۔صبح جمعہ تھا۔(ان دنوں نماز الگ نہیں پڑھتے تھے۔آپ جامعہ مسجد دہلی کو صرف ایک آدمی ہمراہ لیکر الحمد للہ یہ پیشگوئی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تھی ، پوری ہو گئی۔چلے گئے اور کچھ خوف نہ کیا جو آدمی ساتھ تھا۔اس نے مجھے بتایا کہ حضرت صاحب نہایت تیز قدمی سے چلے گئے اور بالکل بے خطر جب مسجد کے دروازے پر پہنچے۔وہاں ہجوم تھا۔روایات ۱۰ حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب سابق سردار جگت سنگھ ایک دفعہ حضرت صاحب امرتسر گئے وہاں لیکچر کی تجویز ہوئی۔جب حضور لیکچر دینے کے لئے گئے۔وہاں باوجود پولیس کے انتظام کے لوگ نہ ہے۔بلکہ پتھر مارنے شروع کئے۔آخر پولیس نے کہا۔ہمارے قابو سے بات باہر ہو گئی ہے۔آپ تشریف لے چلیں۔چنانچہ حضور کو بند گاڑی میں بٹھایا گیا۔اور لوگ زور زور سے پتھر پھینکتے تھے۔اس قدر زور سے لوگ ادھر ادھر سے پتھر مارتے تھے کہ گاڑی کی طاقی کو زور سے ہم کھینچ کر اوپر لے جاتے مگر لگائی نہ جاتی۔پتھروں کے مارے نیچے گر جاتی۔مگر یہ عجیب خدا کا فضل تھا کہ بارش کی طرح پتھر بر سے مگر احمدی جماعت کے کسی فرد کو کوئی پتھر نہ لگا۔بلکہ جب بھی کسی مخالف نے مارا یا زمین پر گرا یا گاڑی پر یا کسی دوسرے مخالف کے ہی لگا۔جس وقت پتھر پڑ رہے تھے ، ایک آدمی نے زور سے السلام علیکم کہا۔آپ نے فرمایا۔وعلیکم السلام۔اس نے کہا میں نے وہ پتھر بھی قوم نے برسائے۔سلام علیکم بھی پہنچ گیا۔آپ اس وقت ذرہ بھی نہیں گھبرائے۔روایات " ملا وامل ایک شخص میر عباس علی نامی لودھیانہ کے تھے۔وہ مرزا صاحب کے بڑے مخلص آدمی تھے۔ابتدا میں۔بعد میں نہ معلوم وہ کیوں مخالف ہو گئے۔ایک دفعہ ان کا خط مرزا صاحب کے پاس آیا کہ آپ کے لودھیانہ آنے کے وقت سے میرے ساتھ بڑی مخالفت شروع ہوئی ہے۔لوگ بری بری گالیاں دیتے ہیں اور لڑتے رہتے ہیں۔آپ نے جواب لکھا۔وہ جواب میں نے دیکھا۔اس میں ایک شعر تھا۔جو یہ ہے۔گر مجنوں صحبت خواهی به بینی زود تر خار ہائے دشت و تنہائی و طعنه عالی اور جہاں تک میرا خیال ہے۔خط کا مضمون اس شعر میں آہی گیا۔