سیرت احمد

by Other Authors

Page 20 of 131

سیرت احمد — Page 20

27 26 صاحب نے اس کو رخصت کر دیا۔ایک میں تھا ایک میری لڑکی (ام ایک سپاہی کو حکم دے گیا کہ اس خانہ کو چابی لگارو۔اور جب تک گاڑی نہ المومنین) ایک خدمتگارہ جو مرزا صاحب نے ساتھ بھیجی تھی۔جاتے وقت چلے یہاں کھڑے رہو۔کوئی اور آدمی سوار نہ ہونے پارے ایسا ہی ہوا ہم کو خرچ معمولی دیا جس سے کہ ہم تھرڈ کلاس کے ٹکٹ لے سکتے تھے۔گاڑی چلدی۔جالندھر چھاؤنی کے سٹیشن پر ایک بابو آیا۔چابی کھولی اور بٹالہ جاکر میں نے دہلی کے تین ٹکٹ تھرڈ کلاس کے لئے اور اپنی لڑکی (ام ایک آدمی کو اندر داخل کیا کہ یہاں بیٹھ جا۔ابھی وہ بیٹھنے نہ پایا تھا کہ پھر اس المومنین) سے کہا۔تم اور خدمتگارہ زنانی گاڑی میں بیٹھ جاؤ۔میں مردانی بابو نے اس پکڑ کر کھینچ لیا اور کہا۔آ اور جگہ بٹھاؤں اور خانہ کو چابی لگا کر چلا گاڑی میں بیٹھوں گا۔انہوں نے انکار کیا کہ میں اکیلی نہیں ہوتی میں آپ گیا۔غرض اسی طرح غازی آباد تک ہم تینوں بیٹھے رہے۔وہاں نماز فجر کا کے ساتھ بیٹھوں گی۔مجھے تکلیف معلوم ہوئی کہ جب یہ ساتھ بیٹھے گی وقت ہو گیا۔ہم نے اتر کر نماز پڑھی۔وہاں سے پنجاب لائن اور دہلی لائن کا لوگ ساتھ آ بیٹھیں گے۔اس کو بھی اور مجھے بھی تکلیف ہو گی۔خیر ہم ایک کچھ حساب تھا۔وہ گاڑی میں آدمی گن گن کر ہر ایک خانہ میں دس دس خالی سے خانہ میں بیٹھ گئے۔امر تسر پہنچے۔اسٹیشن سے پرلی طرف ایک باغیچہ بٹھایا کرتے تھے۔میں نے سوچا یہاں تو وہ ضرور دس پورے بٹھا دیں گے۔میں بیٹھ رہے کیونکہ گاڑی نے رات کے وقت جانا تھا۔وہاں بیٹھ کر میں نے جب ہم نماز پڑھ کر گئے۔اپنا خانہ خالی پایا۔دیر تک بیٹھے رہے کہ اب کوئی دعا کی۔بار خدایا۔اگر مرزا اپنے دعوئی میں سچا ہے (اس وقت میں نہ مرزا ہمارے خانہ میں آدمی بٹھا رے بابوؤں نے اور ساری ریل میں حساب صاحب کا مرید تھانہ معتقد) اور تجھے اس کی عزت منظور ہے تو مجھے ایک نشان کر کے دس دس آدمی فی خانہ پورے پورے بٹھائے۔مگر ہمارا خانہ دلی تک دکھا کہ میں اور میری لڑکی (ام المومنین) اور اس کی خدمتگارہ مینوں ہی ایک اسی طرح رہا۔ہم دہلی بخیر و عافیت اتر گئے۔خانہ میں بیٹھے چلے جائیں۔اور دہلی تک کوئی مرد ہمارے خانہ میں آکر نہ بیٹھے کیونکہ لوگوں کے دل تیرے تصرف میں ہیں۔سٹیشن پر ڈپٹی فتح علی اور روایت ۱۶ حافظ محمد یوسف جو مرزا صاحب کے معتقد تھے مجھے مل گئے۔انہوں نے کہا۔شام کا کھانا ہم لاویں گے۔میں نے منظور کر لیا وہ شام کو کھا نالائے ان کے حافظ ابراہیم صاحب رض ایک دفعہ حضرت صاحب گورداسپور مقدمہ کی وجہ سے گئے ہوئے ساتھ ان کے دوست ڈپٹی انسپکٹر پولیس سٹیشن بھی ساتھ آیا۔انہوں نے ہم تھے۔وہاں عدالت کے باہر بیٹھے تھے۔ایک سائل نے سوال کیا واذ کو کھانا کھلایا اور ہمارا اسباب خود اٹھا کر ہم کو گاڑی میں سوار کر دیا۔وہ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُ وَ الأَدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيس اس کے کیا رخصت ہو گئے۔مگر ڈپٹی انسپکٹر پولیس وہاں کھڑا رہا۔آخر جب وہ جانے لگا معنی ہیں۔کیا شیطان خدا کے تصرف سے باہر تھا۔مخلوق نہ تھا۔جو انکار کیا۔