سیرت احمد — Page 21
29 28 آپ نے فرمایا۔نہیں یہ بات نہیں۔مشاہدات اس کے گواہ ہیں۔جس قدر شیطان کے مرنے کے دن ہیں۔نورانی ستارہ اور سیارہ ہیں اور بڑے بڑے جیسے سورج اور چاند۔سب نورانی مخلوق زمین کو سجدہ کرتی ہے۔ان کی شعاعیں اور ان کی تاثیرات اور ان کے عکس سب زمین پر پڑتے ہیں۔اور آگ کی شعاع او پر کو اٹھتی ہے۔اس میں نیچے کو جھکنے کا خاصہ ہی نہیں ہے۔شیطان نے اپنے آپ کو آگ روایت ۱۷ حضرت منشی اروڑے خانصاحب ایک شخص بٹالہ میں محمد بخش نامی تھانیدار تھا۔اس نے حضرت مسیح سے نسبت دی ہے۔وہ کیسے سجدہ کرتا۔وہ تو ناری مخلوق سے ہے جس کا موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر مقدمہ حفظ امن کے خلاف کرنے کا چلایا۔اور زمین پر جھکنا کام ہی نہیں ہے۔تکبر اور نخوت اس کا زحل ہے۔(اس کو سزا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو بہت تکلیف اٹھانی پڑی۔غرض محمد بخش تھانیدار کی یہ شرارت تھی اور اس کی شرارت سے حضرت صاحب کو بہت اباء اور استکبار کی ہی ہے) ایک دن حضرت صاحب دن کے دس بجے مسجد مبارک میں آئے۔اور تکالیف کا سامنا ہوا آخر مقدمہ میں حضور بری ہو گئے۔مگر جو جو لوگ اس مسجد میں حضرت مولوی نورالدین صاحب بیٹھے تھے۔میں بھی موجود تھا۔شرارت میں کوشاں تھے وہ ناکام و نامراد ہوئے اور ہلاک ہو گئے۔مگر محمد آپ نے تشریف لا کر مولوی صاحب سے فرمایا۔آج میں اس آیت پر غور بخش تھانیدار مذکور کے بیٹے نے فیصلہ مقدمہ سے کچھ عرصہ بعد آخر حضرت کر رہا تھا قَالَ رَبِّ أَنْظِرْ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُون اور اس کے معنی پر توجہ صاحب کی بیعت کر لی۔جب وہ بیعت کر چکا تو حضرت مولانا مولوی نور الدین کر رہا تھا۔کہ بعث کے معنی کیا ہیں۔اگر دن بعث تک شیطان رہے گا۔یعنی صاحب نے عرض کر دیا کہ حضرت یہ لڑکا جس نے بیعت کی ہے محمد بخش تھانہ جب آسمان زمین فنا ہو جاویں گے۔ساتھ ہی ملائکہ بھی اور جب دوبارہ دار بٹالہ کا بیٹا ہے۔آپ نے فرمایا اچھا ہم نے آج اس کے باپ کا قصور سب لوگ اٹھیں گے۔تو اس وقت شیطان مرنے لگے گا۔تو کیا شیطان باقی معاف کیا۔رہے گا۔اس کا اصل مطلب مجھے سمجھایا گیا کہ یہ بعث وہ بعث نہیں۔بلکہ آخری زمانہ کے بعث کا مطلب ہے۔یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں انسانوں روایت ۱۸ کا انتہائی بعث ہے اور وہ شیطان کے مرنے کا دن ہے۔اور نبی کریم صلی اللہ حافظ ابراہیم صاحب ایک دفعہ گرمی کے موسم میں حضور مسجد مبارک میں شاہ نشین پر زمانہ میں شیطان اور مسیح موعود کی جنگ ہوگی۔اور یہی بعث ہے اور یہی تشریف فرما تھے۔اور بہت سے لوگ موجود تھے۔مغرب اور عشاء کے علیہ وسلم نے اور پہلے انبیاء علیہم السلام) نے خبر دی ہے کہ اس آخری