سیرت احمد

by Other Authors

Page 19 of 131

سیرت احمد — Page 19

25 24 پانی بہت چڑھ آیا۔اور اگر ایک دو بارش اور ہوتی تو قریب تھا کہ پانی اندر تک پہنچ جاتا اور مکان گر جاتا۔ہمیں بڑی تشویش تھی۔لوگوں نے حضرت صاحب سے ذکر کر دیا۔ایک دن صبح کے وقت حضور سیر کر کے واپس آئے۔ام المومنین ساتھ تھیں۔اور بھی عورتیں ساتھ تھیں۔حضور ہمارے مکان میں آپہنچے۔ہاتھ میں سوٹا تھا (اللہ اکبر کیا وقت تھا) ام المومنین کے ساتھ آپ مکان کے اندر گئے اور پوچھا۔پانی آگیا۔پانی آگیا۔عرض کیا گیا۔ہاں حضور پانی قریب ہی آگیا اور مکان گرنے کا بہت ہی حضرت صاحب نے اسے تین دفعہ منع کیا یہ باز نہ آیا خیر وہ مل کر چلا گیا۔آخر چند دن کے بعد وہ وہاں پلیگ سے مرگیا اور اس کو یہاں واپس آنا نصیب نہ ہوا۔روایات ۱۵ حضرت میر ناصر نواب صاحب ایک دفعہ مجھ کو درد قولنج ہوا۔اور بڑی تکلیف تھی۔حضرت میرے اندیشہ ہے۔فرمایا اچھا اللہ آپ پر رحم کرے گا۔اب بارش کے بند ہونے پر پاس آئے اور دعا شروع کی (میاں اسماعیل بھی میرے پاس تھے۔وہ میرے تم مٹی اور ڈال لینا۔اب اللہ رحم کرے گا۔چنانچہ ایسا فضل الہی ہوا کہ درد اور تکلیف کو محسوس کر کے روتے تھے۔میاں اسحاق بھی میرے پاس بارش ایک عرصہ کے لئے بند رہی۔ڈھاب میں پانی اتر گیا۔ہم نے خاصی تھے۔وہ میاں اسماعیل کو روتے دیکھ کر کہتے تھے۔اس کو کیا ہو گیا۔یونہی مٹی ڈال لی۔اس دن سے آج تک ہمارے مکان کو پانی کا خطرہ نہیں ہوا۔روتا ہے) حضرت صاحب نے دیر تک دعا کی۔دعا کرتے کرتے درد جاتا رہا ایک دفعہ میرا ایک عزیز جو جہلم رہتا تھا۔یہاں آیا ہو ا تھا۔اتفاقاً وہاں اور آرام ہو گیا۔پلیگ ہو گئی۔اس نے حضرت صاحب سے اجازت چاہی آپ نے فرمایا وہاں پلیگ ہے یہاں ہی ٹھہرو۔وہ دو تین دن ٹھہرا۔پھر عرض کی۔آپ نے فرمایا وہاں طاعون ہے ٹھہرو۔اس نے دو تین دن کے بعد پھر عرض کیا۔آپ نے جس سال سخت زلزلہ آیا۔میری بیوی اور میری لڑکی (ام المومنین) دونوں بہت خوفزدہ تھیں اور روتی تھیں کہ میاں اسماعیل کہیں زلزلہ میں مر نہ گئے ہوں۔حضرت صاحب نے سنا تو فرمایا ہمیں الہام ہوا ہے کہ فرمایا وہاں طاعون ہے ٹھہرو۔اس نے دو تین دن بعد پھر عرض کی اب تو اسٹنٹ سرجن" جب تک اسٹنٹ سرجن نہ ہو کس طرح مر سکتا وہاں کچھ آرام ہے۔آپ نے فرمایا اچھا جاؤ۔اس نے مجھ سے کہا۔اجازت ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔میاں اسماعیل ہر بلا سے محفوظ رہے اور بفضل الہی ہو گئی۔میں حضرت صاحب کے پاس گیا اور پوچھا۔آپ نے فرمایا۔ہاں وہ آج تک خوش و خرم ہیں۔کہتا تھا، اجازت دے دی۔میں اپنے گھر آیا۔وہ جانے کو تیار تھا۔میں نے جب حضرت مرزا صاحب کی شادی میری لڑکی سے ہوئی۔وہ پہلی بار یا اپنی بیوی اور بھا وجہ سے کہا اس سے مل لو۔امید نہیں یہ پھر آوے۔دوسری بار یہاں ( قادیان) آئی ہوئی تھی۔میں اس کو لینے کے لئے آیا مرزا