سیرت احمد — Page 113
213 212 میں لکھ دیا۔جس کے جواب میں حضور نے تحریر فرمایا ان کی مشروط بیعت منظور ہے۔نیز تحریر فرمایا کہ اگر مسیح علیہ السلام آجا ئیں تو سب سے پہلے میں بیعت کر لوں لیکن یہ عقیدہ ہی غلط ہے۔نہ کوئی آسمان پر گیا ہے اور نہ آسمان سے کوئی آئے گا۔اور مجھے اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود بنا کر مبعوث کیا ہے۔والد صاحب کی بیعت میں والد صاحب کے لئے دعائیں کرتاتھا لگے۔ابھی شرح صدر نہیں۔اگر چہ طبیعت میں تذبذب تو پیدا ہو گیا ہے۔کچھ عرصے کے بعد انہوں نے بیعت کا خط لکھ دیا۔والد صاحب کی وفات ۱۹۲۷ء میں ہوئی۔چونکہ آپ بھی موصی تھے اور آپ کی وفات قصبہ سنور میں ہوئی۔وہاں سے بذریعہ لاری آپ کی نعش قادیان پہنچائی گئی۔جہاں اپ اس قطعہ صحابہ میں جو کنوئیں کی طرف ہے ، دفن ہوئے۔والد صاحب کی بیماری طاعون ۱۹۰۳ء میں میں قصبہ بھی اور حضور کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا کرتا تھا۔والد صاحب چونکہ تہجد گزار تھے اور ذکر الہی کرتے رہتے تھے۔انہوں نے ایک دن مجھے بتلایا کہ میں نے رات ایک عجیب خواب دیکھی ہے کہ میں بیت اللہ شریف میں ہوں اور وہاں نماز ادا کی ہے۔ابھی سلام نہیں پھیرا تھا۔دونوں ہاتھ التحیات کے وقت گھٹنوں پر رکھے ہوئے تھے کہ سلام پھیرنے کے ساتھ ہی کسی نے آکر میرے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر دیں۔اور کہا کہ جب تک حب آل رسول نہ ہو گی۔اس وقت نماز روزہ کچھ نہ قبول ہو گا تو والد صاحب نے فرمایا کہ مجھے تو آل رسول کی اتنی محبت ہے کہ میں مشیہ تہجد میں پنجتن پاک کے کے لئے نام بنام دعا ئیں کرتا ہوں۔میں نے عرض کیا کہ میں اس کی تعبیر عرض کروں۔تو فرمانے لگے تم اغرقنا ال فرعون یہ دلیل پیش کرو گے۔کہ وہ فرعوں کے متبع تھے اور اس کی واقعی تھے۔اسی طرح جب آل رسول جو مجھے بتایا گیا ہے۔تم اس میں حضرت مرزا صاحب کو بھی شامل قرار دو گے۔میں نے عرض کیا ہاں ! کہنے آل نم ریاست پٹیالہ میں بندوبست کے محکمے میں ملازم تھا اور دفتر بسی میں تھا۔مجھے وہاں خط ملا۔کہ آپ کے والد صاحب طاعون سے بیمار ہیں۔نازک حالت ہے فوراً پہنچ جاؤ۔چنانچہ میں اسی وقت دفتر سے رخصت حاصل کر کے ٹانگے کے اڈے پر آیا۔ٹانگے والوں نے بتایا کہ گاڑی کا وقت ہونے کو ہے اور فاصلہ چھ میل کا ہے اس لئے گاڑی نہیں مل سکتی۔میں نے ٹانگے والے کو کہا کہ میں کرایہ پورا دے دیتا ہوں تم فور آچلو مجھے لے چلو۔چنانچہ ٹانگہ بہت تیز چلایا گیا اور جب ہم سرہند کے اسٹیشن سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر تھے تو گاڑی اسٹیشن پر آ گئی۔اسٹیشن لائن سے پرلی طرف تھا اور پھاٹک سے ایک فرلانگ کا فاصلہ تھا۔ٹانگہ بہت تیز چلایا۔مگر گاڑی اسٹیشن چھوڑ کے چل پڑی اور میں ٹانگے سے اتر کر تیزی سے دوڑ کر چلتی ٹرین پر سوار ہو گیا۔گارڈ نے مجھے سوار ہوتے دیکھ لیا۔وہ اگلا اسٹیشن آنے سے پہلے ہی چلتی گاڑی میں میرے ڈبے میں آگیا اور مجھے کہنے لگا کہ میں آپ کو پولیس کے حوالہ کروں گا۔آپ چلتی 1