سیرت احمد

by Other Authors

Page 112 of 131

سیرت احمد — Page 112

211 - 210 نے مجھے کہا کہ "دیکھا نہ بھالا صدقے گئی خالہ " آپ نے مرزا صاحب کو دیکھا تو ہے نہیں ؟ کیا یو نہی بیعت کرلی ہے ؟ میں نے میں چاہتی ہوں کہ جو اس کا حشر ہو وہی میرا حشر ہو اس لئے مجھے اجازت دے دیجئے کہ میں بیعت کرلوں۔والد صاحب نے کہا کہ اچھا! تمہاری مرضی۔تم نے بیعت کرنی ہے تو کر لو۔مجھے کوئی اعتراض نہیں۔اس پر میں نے ان کی اس کو تو جواب دیدیا۔مگر میرے دل میں یہ بات چبھ گئی۔اور میں بٹھنڈے طرف سے حضور کی خدمت میں بیعت کا خط لکھدیا۔سے ہی سوار ہو کر براستہ امرتسر قادیان پہنچا۔ظہر کے وقت جب مسجد مبارک گیا۔تو نماز کے بعد حضرت مسیح موعود تشریف فرما ر ہے۔اس وقت دادا صاحب کی بیعت میں نے دادا صاحب کو تبلیغ کرنی شروع میرے خیال میں یہ بات آئی کہ آپ کا انکار کفر ہے۔کئی دن قیام کے بعد کی۔ان کی عمر قریباً سو سال تھی۔مگران واپس گیا۔(یہ واقعہ ۱۸۹۸ء کے آخر کا ہے)۔اس وقت مسجد مبارک کے قومی بالکل صحیح سالم تھے۔انہوں نے فرمایا کہ میں لکھا پڑھا نہیں ہوں۔صرف چھتے پر تین کمروں کی شکل میں تھی۔اور مسجد میں دس سے لے کر پچیس آدمیوں تک کی حاضری ہوتی تھی۔صرف قرآن شریف پڑھ سکتا ہوں۔تمہارا اوالد مولوی ہے اس نے بیعت نہیں کی؟ میں نے کہا وہ بھی تحقیق کر رہے ہیں۔آپ اس عمر کو پہنچے ہوئے میں نے جب مولوی عبد اللہ صاحب سے اس بات کا ذکر کیا کہ آپ کا انکار ہیں نبی کریم نے فرمایا ہے کہ جب مسیح آئے تو اسے سلام کہنا۔اگر چہ کفر ہے تو آپ نے کہا کہ اس طرح نہ کہو۔چنانچہ ۱۹۰۱ء یا ۱۹۰۲ء میں حضرت مسیح موعود نے خود اس کی تصریح کر دی کہ جو لوگ آپ پر کفر فتوی لگاتے ہیں ، وہ کافر ہیں۔اور جو ان کی تائید میں ہیں۔وہ بھی کافر ہیں۔گھٹنوں کے بل جانا پڑے۔تو اس لئے آپ بیعت کر لیں۔انہوں نے فرمایا کہ میں نے تو اپنے بزرگوں سے یہی سنا ہے کہ جو ایک پیر کی بیعت کر کے توڑتا ہے تو وہ گویا خدا کی بیعت سے پھرتا ہے۔اگر مسیح علیہ السلام میری زندگی میں نازل ہو جائیں تو پھر مجھے بیعت تو فسح کرنی پڑے گی۔میں نے کہا والدہ صاحبہ کی بیعت بیعت کے بعد مجھے تبلیغ کی طرف زیادہ که آسمان سے نہ تو آج تک کوئی آیا ہے اور نہ آئے گا۔اور اس کے میں توجہ تھی۔گھر میں والدہ صاحبہ کو تبلیغ کی اور انہوں نے والد صاحب سے دریافت کیا کہ کیا آپ اجازت دے دیں گے۔کہ میں بیعت کرلوں۔والد صاحب نے کہا کہ میں تو اسی بات کا معتقد ہوں کہ مسیح آسمان سے آئے گا۔والدہ صاحبہ نے کہا کہ میرا ایک ہی بیٹا ہے نے ثبوت پیش کئے۔اس پر انہوں نے فرمایا کہ میں مشروط بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں۔بیعت کا خط لکھدو۔لیکن میری طرف سے یہ شرط پیش کرنا کہ اگر مسیح علیہ السلام آسمان سے آجا ئیں تو میں بیعت توڑ کے ان کی بیعت میں شامل ہو جاؤں گا۔چنانچہ میں نے مشروط بیعت کا خط حضور کی خدمت