سیرت احمد — Page 114
215 214 گاڑی میں کیوں سوار ہوئے ہیں۔اگر آپ کا ہاتھ نہ پڑتا تو آپ کٹ جاتے۔میں نے گارڈ کو خط دکھایا کہ میرے والد صاحب بہت بیمار ہیں اور ان کی حالت نازک ہے خط کو دیکھ کر جب اسٹیشن پر گاڑی کھڑی ہوئی تو اس نے اسٹیشن ماسٹر سے مجھے ٹکٹ لا کر دے دیا۔جس کے پیسے میں نے اس کو ادا کر دئیے۔اس نے کہا کہ آئندہ ایسا کبھی نہ کرنا۔میں پٹیالہ سے سنور پہنچا۔اور والد صاحب کا علاج شروع کیا ان کی گردن میں طاعون کی گلٹنی نکلی ہوئی تھی اور درم کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تھا۔چار پانچ دن علاج کو گزر گئے تھے کہ مغرب کے بعد میں والد صاحب کی چارپائی کے پاس گیا اور انہیں بلایا۔طاعون کی وجہ سے غنودگی طاری رہتی تھی۔اس لئے وہ بہت کم اور آہستہ بولتے تھے۔اس وقت میرے دو تین آوازیں دینے پر انہوں نے کچھ بھی جواب نہ دیا۔مجھے اس وقت خیال ہوا۔کہ یہ ان کا آخری وقت ہے۔میں باہر دالان میں آیا اور میں نے اپنی پہلی بیوی کو جو میرے ماموں کی لڑکی تھی کو ڈھونڈا تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے والد کے ہاں گئی ا ہوئی ہیں۔چونکہ ماموں صاحب کا مکان قریب ہی تھا۔میں ان کو بلانے کے لئے چلا کہ اگر والد صاحب کی وفات ہو جائے۔لوگ کہیں گے کہ یہ گھر میں بھی موجود نہیں تھی۔میں ڈیوڑھی میں گیا تھا کہ مجھے غش آیا اور میں زمین پر گر پڑا۔میرے گرنے کی آواز سے اندر سے میری والدہ اور ہمشیرہ وہاں آئیں اور مجھے بیہوش پا کر جلدی پانی لا کر منہ میں پانی ڈالا۔مجھے ہوش آئی۔والدہ صاحبہ نے پوچھا کیا بات ہے؟ یہاں کیوں آئے تھے ؟ میں نے کہا والد صاحب کی حالت بہت خراب ہے اور وہ گھر میں نہیں ہیں۔ان کو بلانے جا رہا تھا۔مجھے میری والدہ اندر لے گئیں اور چار پائی پر بٹھا کر کہا کہ ہم اسے خود بلا لیں گے گھبرانا نہیں چاہئے۔اور اندر کی کوٹھڑی میں جہاں والد صاحب لیٹے ہوئے تھے ، جا کر والد صاحب سے کہا کہ آپ قدرت اللہ کے بلانے پر بولے نہیں۔اس کو اس قدر صدمہ ہو گیا کہ غش کھا کر گر پڑا۔اس پر والد صاحب نے انہیں کہا کہ اسے میرے پاس بلاؤ۔والدہ صاحبہ نے مجھے اندر بلایا۔اور والد صاحب نے اشارے سے مجھے کہا کہ قریب ہو جاؤ۔فرمایا کہ میں یہاں سے ہیں پچیس میل دور تلونڈی سکول میں تھا۔وہاں روزانہ کئی کئی آدمی طاعون سے مر رہے تھے۔جب میرے طاعون نکلی تو بیہوشی تک پہنچ گئی تو میں نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ایسا سامان ہو جائے کہ میں سنور میں جاکر مروں۔اس پر مجھے فرشتے نے یہ بات بتلائی کہ تم ابھی فوت نہیں ہوتے۔جب قدرت اللہ کے دو بیٹے یکے بعد دیگرے ہوں گے تب تمہاری وفات ہوگی۔فرمایا گھبرانا نہیں چاہئے اللہ تعالیٰ صحت عطا فرما دے گا۔چنانچہ آپ صحتیاب ہو گئے۔اس کے بعد میری پہلی بیوی فوت ہو گئی۔پھر میری دوسری شادی ہوئی اس کے بعد ایک لڑکا پیدا ہوا وہ فوت ہو گیا۔پھر چار لڑکیاں پیدا ہو ئیں۔ان کے بعد میرا بڑا لڑکا محمود احمد پیدا ہوا۔اس کے بعد پھر ایک لڑکی پیدا ہوئی اس کے بعد مسعود احمد پیدا ہوا اور اس کے بعد داؤ د احمد۔داؤد احمد کی پیدائش کے بعد فرمانے لگے کہ یہ وہی دونوں لڑکے ہیں۔اب میری وفات کا وقت قریب آگیا ہے۔چنانچہ ۱۹۲۷ء میں اس کے بعد آپ نے وفات پائی۔|