سیرت احمد

by Other Authors

Page 89 of 131

سیرت احمد — Page 89

165 164 نے صبح کی نماز کے وقت حضور سے اجازت چاہی۔آپ نے فرمایا جمعہ پڑھ کر جانا۔چنانچہ ہم ٹھر گئے۔مگر اسی دن سخت بارش ہوئی اور دو دن بڑی بارش ہوتی رہی۔حتی کہ جمعہ میں بھی میں بڑی مشکل سے پہنچا۔یہ حضور کا روکنا آپ کی قوت اعجازی پر دلیل ہے۔روایت ۷۳ حافظ عبدالرحیم صاحب ساکن مالیر کوٹلہ حضور کی ایک کتاب کئی پریسوں میں چھپ رہی تھی۔کچھ حصہ میگزین پریس میں بھی چھپ رہا تھا۔ایک پروف لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ایک دن سید امیر علی شاہ صاحب ملہم ساکن سیالکوٹ نے مجھے فرمایا کہ ہوا۔تو حضور نے فرمایا۔دوسرا پروف تیار ہوا۔میں نے عرض کی کہ کرم تم ایک رتی کستوری لاؤ۔تمہیں ایک کلام لکھ دوں میں نے کہا کہ کستوری تو علی سنگساز بیمار ہے۔اس لئے پروف تیار نہیں ہو سکا۔حضور نے فرمایا اس کو یہاں ملتی نہیں۔انہوں نے کہا۔حضرت صاحب کو رقعہ لکھ دو۔آپ عطا ابھی بلا کر لاؤ۔جب میں ان کو بلا کر لایا تو حضور نے فرمایا کہ منشی صاحب آپ فرما دیں گے۔میں نے کہا شرم آتی ہے۔انہوں نے کہا شرم کی بات نہیں بیمار ہیں۔انہوں نے عرض کیا۔ہاں حضور میں بیمار ہوں۔تو آپ نے فرمایا اگر اندر ہوگی تو حضور عنایت فرما دیں گے۔چنانچہ میں نے رقعہ لکھ دیا۔تم ہمارا پتھر ٹھیک کرو۔خدا تم کو شفا دے گا۔شام کو جب میں نے منشی کرم جب آپ نماز کے لئے تشریف لائے تو فرمایا کہ آپ کا رقعہ پہنچ گیا ہے۔میں علی صاحب سے پوچھا کہ کیا حال ہے۔تو انہوں نے کہا کہ بالکل تندرست نے اندر حکم دے دیا ہے۔آپ کو کستوری پہنچ جائے گی۔چنانچہ ایک رتی ہوں جس کے وہ زندہ گواہ موجود ہیں۔کی بجائے حضور نے تین رتی کستوری بھیج دی۔ہمارے ذمہ بہت سا قرض ہو گیا تھا۔میں نے حضور کی خدمت میں خط لکھا کہ حضور دعافرما ئیں۔آپ نے جواب میں تحریر فرمایا کہ ہم دعا کریں گے مگر تم بھی دعا کرتے رہنا۔اللهم اني ا سُلُكَ الْعَافِيَةِ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَ روایت ۷۴ احمد دین صاحب " سنار مهاجر میں حضور کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے قرض دینا ہے۔حضور دعا فرمائیں۔آپ نے فرمایا۔اللَّهُمُ اقْضِيْ دَيْنِي وَأَغْنِنِي مِنَ أَهْلِي وَمَا لِى اللَّهُمَّ اسْتَرْ عَوْرَاتِي وَا مِنْ رَوْعَاتِي وَاحْفِظُنِيْ مِنْ الْفَقْرِ۔میں نے چند دن اس کو نماز میں پڑھا۔خدا تعالیٰ نے قرض سے بَيْنَ يَدَيَّ فِي خَلْقِي وَ عَنْ يَمِينِي وَ عَنْ شَمَالِى وَ عَنْ قُوَّتِي وَأَعُوذُ بِكَ بِعَظْمَتِكَ إِنَّ الْمَثَالَ مَنْ تَحْتِي - نجات دے دی۔