سیرت احمد

by Other Authors

Page 63 of 131

سیرت احمد — Page 63

113 112 عجیب طرح بموجب اس فرمان کے جس کا پیچھے ذکر ہو چکا ہے (حضرت صاحب نے فرمایا کہ تم آؤ گے) قادیان میں آنے کی توفیق دی۔سو میں قادیان پہنچا۔ایک دفعہ میں حضرت صاحب کے ساتھ گورداسپور جاتا تھا۔میں نے کہا۔حضرت مولوی صاحب عبد اللطیف مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ میں انتظار میں تھا کہ خدا مجھے مسیح موعود بنائے گا۔جب حضور کی کتاب ملی تو اسے دیکھ کر کہا۔ٹھیک ہے۔یہ مسیح موعود آگیا۔حضرت صاحب نے فرمایا اگر میں نہ آتا تو میرے خیال میں ضرور یہی مسیح موعود ہو تا۔ایک دفعہ میں حضرت صاحب کے ساتھ گورداسپور جاتا تھا مجھے فرمایا تم ہمیشہ ہمارے ساتھ جایا کرو۔صد با طرح کے دشمن ہوتے ہیں۔تم ہمارے یکہ کے ساتھ رہا کرو۔ایک دفعہ رات کو شیخ یعقوب علی اور مفتی فضل الرحمان۔مولوی محمد علی اور میں حضرت صاحب کے ساتھ پیدل گورداسپور کو جارہے تھے۔میں پیشاب کے واسطے بیٹھ گیا۔یہ لوگ دوڑتے ہوئے میرے پاس سے گذرتے تھے۔کیونکہ یہ لوگ حضرت اقدس سے پیچھے رہ گئے تھے۔میں نے جلدی ہی اٹھ کو پوچھا۔کیا ہوا دوڑتے کیوں ہو۔انہوں نے کہا۔چور ہے میں چوروں کے پیچھے بھاگا۔مگر وہ چھپ گئے۔جب حضرت صاحب کو پتہ لگا کہ چور تھے۔آپ نے فرمایا۔احمد نور کہاں گیا۔ان لوگوں نے کہا۔حضور چوروں کے پیچھے گیا ہے۔آپ وہاں ہی ٹھر گئے۔فرمایا احمد نور کو پکارو۔وہ آجائے۔چنانچہ یار محمد نے آواز دی۔میں پکارنے کی آواز سن کر حضرت صاحب کے تمہیں پاس آیا۔تب آپ آگے بڑھے۔جب میں قادیان آیا تو حضرت صاحب نے مجھے کچھ جگہ دی۔میں نے اس جگہ پر دیواریں بنانی شروع کیں۔سکھوں نے میرے گھر پر حملہ کر کے دیواروں کو گرا دیا۔حضرت صاحب نے فرمایا۔اچھا گرانے دو۔ہم اور جگہ گھر بنا دیں گے (یہ حضور کا حوصلہ تھا کہ آپ کی ملکیت پر لوگوں نے خواہ مخواہ حملہ کیا اور حضور نے صبر کیا) میں نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کو خواب میں دیکھا اور رسول کریم کے وجود مبارک کو ان کے وجود کے ساتھ ایک ہی پایا۔کہ رسول کریم بھی ہیں۔اور حضرت مسیح موعود بھی ہیں گو رنگ الگ الگ ہیں۔مگر وجود ایک ہی ہے۔ایک دفعہ خواب میں قادیان کو مکہ کی شکل میں دیکھا۔اور مہمان خانہ کو عرفات کی شکل پر دیکھا۔ایک دفعہ حضرت صاحب مسجد مبارک میں ظہر کی نماز کے لئے تشریف لائے۔مولوی نور الدین صاحب شفا خانہ میں تھے اور ابھی نہیں آئے تھے۔جموں کا رہنے والا ایک آدمی سامنے بیٹھا تھا۔اس کا نام مجھے معلوم نہیں اس نے عرض کیا۔حضور بعض لوگ ہوتے ہیں کہ نمازی بھی ہوتے ہیں۔زکوۃ بھی دیتے ہیں۔حج بھی کرتے ہیں۔نفل بھی پڑھتے ہیں متقی بھی ہوتے ہیں۔اور آپ کو بھی اچھا سمجھتے ہیں۔مگر بیعت نہیں کی ہوتی۔حضرت صاحب نے فرمایا۔اچھا سمجھنا تو ایک ہندو کو بھی اچھا سمجھنا ہے۔جس نے میرے دعوی کی تصدیق نہیں کی وہ تو مجھے جھوٹا سمجھتا ہے اور بڑا ظالم ٹھہراتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن